الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 640
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 609 کرنے کے معابعد کیا آپ کو باہم متصادم مسلم فرقوں پر حکم و عدل تسلیم کر لیا جائے گا ؟ کب اور کون آپ کو اسلام کی اس رنگ میں تعلیم دے گا کہ آپ ایسی عظیم الشان ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہوسکیں؟ اگر علماء اس بات پر مصر ہوں کہ حضرت عیسی کے زمین پر نزول سے پہلے ہی انہیں آسمان پر ایک مسلمان نبی کی حیثیت سے دوبارہ مامور کر دیا گیا ہوگا تو اس صورت میں انہیں قبل از اسلام زمانہ کا نبی کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟ خلاصہ کلام یہ کہ قبل از اسلام کے ایک نبی کو مستعار لینے کا مطلب یہ ہے کہ آخری نبی ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد یا تو انہیں آسمان پر ہی اسلام کے نبی کی حیثیت سے مامور کیا جائے گا یا صلى الله زمین پر اترنے کے بعد پہلے انہیں مسلمان بنایا جائے گا اور پھر بطور نبی مامور کیا جائے گا۔اندورنی تضادات کا حامل ایسا بے سروپا نظریہ خواہ دنیا کو کتنا ہی لغو اور غیر معقول نظر کیوں نہ آئے کٹڑ اور قدامت پرست علماء کو اس کی ذرا بھی پروا نہیں۔ان کے نزدیک آسمانی پیشگوئی کی تفہیم میں دلائل اور معقولیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوا کرتا۔یہ لوگ پیشگوئیوں کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ اس طرح اسلام کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے۔یہی دیوانگی دراصل ان کے فکروتدبر، امیدوں اور خواہشات میں پائے جانے والے انتشار کا باعث ہے۔المختصر یہ کہ قبل از اسلام کے ایک اسرائیلی نبی کو مستعار لینا اتنا مفید نہیں جتنا علماء سمجھتے ہیں۔ان کی کمال درجہ کی ہٹ دھرمی کا کیا کہنا! وہ آسمانوں سے اترنے والے ایک اسرائیلی نبی کو تو قبول کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن امت مسلمہ میں جنم لینے والے کسی نبی کو قبول کرنے کیلئے ہر گز تیار نہیں۔وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ حضرت عیسی کی دوبارہ آمد کے اس من گھڑت قصہ سے انہیں اور بہت سے فوائد حاصل ہو جاتے ہیں۔آسمانوں سے نازل ہونے والے عیسیٰ عام بشر نہیں ہوں گے بلکہ زمین پر اترنے سے پہلے وہ ایسی فوق البشر طاقتیں حاصل کر چکے ہوں گے جن کا اس سے قبل انبیاء کی پوری تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کا یہ خیالی نقشہ علماء نے اپنے اسی میلان کے نتیجہ میں تخلیق کیا ہے جس میں وہ پیشگوئیوں کے ظاہری الفاظ پر حد سے زیادہ زور دیتے ہیں۔ان کو اس بات سے کوئی