الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 639 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 639

608 حضرت عيسى عليه السلام اور ختم نبوت بھی آپ کو اسلام قبول نہ کرنے کی اجازت دی گئی ہو گی ؟ بصورت دیگر اس منطقی نتیجہ سے ہرگز کوئی مفر نہیں کہ قرآن کریم آپ پر کسی نہ کسی طرح ضرور نازل ہوا ہو گا۔کیا ملاں یہ تجویز کریں گے کہ حضرت عیسی کو یہ پیغام جبرائیل کی بجائے آنحضرت علی نے ہی جنس نفیس پہنچایا ہوگا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کا پیغام اپنے صحابہ کو پہنچایا تھا اس وقت تو کوئی درمیانی واسطہ موجود نہیں تھا۔جبرائیل کے ذریعہ جو بھی آنحضور ﷺ پر نازل کیا جاتا تھا آپ ﷺ براہ راست اسے اپنے صحابہ کو پہنچا دیا کرتے تھے۔لیکن قرون وسطی کے ملاؤں کے مطابق حضرت عیسی تو اس وقت کہیں آسمان پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا آنحضرت ﷺ سے براہ راست کوئی رابطہ بھی نہ تھا۔اس لئے اب دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔یا تو یہ سمجھنا چاہئے کہ جب تک حضرت عیسی زمین پر واپس نہیں آ جاتے اس وقت تک آپ وحی قرآن سے بالکل بے خبر ہوں گے۔یا پھر قرآن کریم حضرت عیسی کو آنحضرت ﷺ کی طرف سے ایک پیغام کی صورت میں مل جائے۔لیکن حضرت عیسی تک ان کے خلا میں ہونے کی حالت میں قرآن کریم کا پیغام ان تک پہنچایا کیسے جا سکے گا جب تک کہ جبرائیل کو پھر اس کام پر مامور نہ کیا جائے۔الغرض یہ منظر ایسا گستاخانہ اور توہین آمیز ہے جسے ایک سچا مومن ایک لمحہ کیلئے سوچ بھی نہیں سکتا۔ذرا تصور تو کریں کہ جبرائیل آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم اتار رہے ہیں اور پھر آنحضرت ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کو قرآن کریم دوبارہ سنائیں تا کہ وہ اسے خدا تعالیٰ کی بجائے آنحضرت ﷺ کی طرف سے بطور پیغام حضرت عیسی کو پہنچا سکیں۔اب ہم حضرت عیسی کے اسلام قبول کرنے کے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔آپ پر قرآن کریم نازل نہ ہونے کے باعث آنحضرت ﷺ پر آپ کا ایمان انوکھا اور مہم ہو تب بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ ایک بے عمل مسلمان ہوں گے جو قر آنی تعلیمات سے کلیہ نا آشنا ہوں۔آپ کے بالمقابل عام مسلمان جہالت کے باوجود آپ سے بہتر مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکیں گے۔پس جب ایسے عیسی کا زمین پر نزول ہوگا تو بڑے بڑے مسلم علماء اور عمائدین انہیں کیسے خوش آمدید کہہ سکیں گے۔لہذا اسلام کے متعلق اپنی لاعلمی دور کرنے کیلئے انہیں امام مہدی علیہ السلام کے حضور فی الفور حاضر ہو کر وقت ضائع کئے بغیر بیعت کرنا ہو گی۔لیکن اسلام قبول