الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 591
560 طاعون کا نشان معاندین احمدیت طاعون کا شکار ہوتے جا رہے تھے اسی رفتار سے احمدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جار ہا تھا اور احمد بیت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی تھی۔إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (الروم 22:30) یقیناً اس میں ایسی قوم کیلئے جو غور و فکر کرتے ہیں بہت سے نشانات ہیں۔یہاں ہم قارئین کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ آیت جس پر اس پیشگوئی کی بنیاد ہے اپنی ذات میں بجائے خود ایک نشان ہے۔اس کی اعجازی شان اور مسحور کن لطافتوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے قاری کو مندرجہ ذیل امور پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔یادر ہے کہ نزول قرآن کے وقت گھٹیوں والی طاعون کے پھیلنے کے اسباب معلوم نہ تھے اور نہ ہی اس وبا کے پھیلانے میں چوہوں کے کردار کا کچھ پتہ تھا۔یہ بات تو طے ہے کہ یہ وبا چوہوں کے کاٹنے سے ہرگز نہیں پھیلتی اور نہ ہی اس پتو کے بارہ میں کوئی علم تھا جو اس مہلک مرض کو منتقل کرنے کا باعث بنتا ہے اور جس کے کاٹنے سے طاعون کا جرثومہ خون میں سرایت کر جاتا ہے۔اگر قرآن کریم انسان کا کلام ہوتا تو وہ کبھی بھی اس پیشگوئی میں طاعون کے پھیلنے کے سبب کو دابة کے کاٹنے سے منسوب نہ کرتا۔آج ہم جانتے ہیں کہ طاعون دراصل ایک کیڑے سے پھیلتی ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حشرات کی ایک بھاری تعداد کے پر ہوتے ہیں جبکہ پر نہ رکھنے والے حشرات کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔مثلاً جو میں، کرم کتابی اور دیمک وغیرہ۔بالآخر یہ بات بھی اب جا کر معلوم ہوئی ہے کہ پتو حشرات میں سے ہونے کے باوجود بجا طور پر دابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔در حقیقت یہی تو اس کا غیر معمولی وصف ہے جس کی وجہ سے یہ دائبہ کہلائے جانے کا مستحق ہے۔وگرنہ یہ قرآنی آیت تو قطعی طور پر غلط ثابت ہو جاتی۔ہم نہایت ادب سے ماہرین حیاتیات کی توجہ اس انوکھی مثال کی طرف مبذول کراتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے گریبان میں جھانک کر بتائیں کہ کیا وہ اس استثنائی امر کو محض اتفاق قرار دے سکتے ہیں؟