الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 535

508 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم نے جوش ایمانی میں بڑے وثوق سے کہنا شروع کر دیا کہ رومی تین سال کے بعد ضرور فتح حاصل کر لیں گے جبکہ دوسرے صحابہ نے انہیں توجہ دلائی کہ اس واپسی میں نو سال کی تاخیر ہو سکتی ہے جو کہ بضع سنین کی انتہائی حد ہے۔اور پھر جیسا کہ بعد کے واقعات سے ظاہر ہو گیا، دوسری رائے ہی درست ثابت ہوئی۔چنانچہ دونوں وعدے لفظاً ومعناً پورے ہوئے۔پہلے تو رومیوں نے اپنا مقبوضہ علاقہ مقررہ مدت میں واپس حاصل کیا۔پھر مسلمان آٹھویں سال کے اختتام سے قبل فاتحانہ شان سے مکہ واپس آئے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں واضح طور پر پوری ہونے والی بعض پیشگوئیوں کا تعلق مدینہ کے مسلمانوں پر مکہ والوں اور ان کے خانہ بدوش حلیف قبائل کے متواتر حملوں سے ہے۔ان میں سے پہلی پیشگوئی جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہے غزوہ بدر کے واقعات کی تصویر کشی کرتی ہے۔اہل مکہ کی زبر دست پیشہ ورانہ منظم فوج کے خلاف مسلمانوں کے اس پہلے شدید معرکہ میں حملہ آور میں حملہ آور لشکر مکمل طور پر تباہ ہو کر اپنے سے کہیں چھوٹی مسلم قوت کے ہاتھوں انتہائی شرمناک پسپائی پر مجبور ہو گیا۔أمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعُ مُنتَصِرُه سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبْرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَآمَرُ ( القمر 45:54-47) ترجمہ: کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم بدلہ لینے والا گروہ ہیں؟ ضرور یہ انبوہ کثیر ہزیمت دیا جائے گا اور وہ پیٹھ پھیر جائیں گے۔بلکہ ان سے انقلاب کی گھڑی کا وعدہ کیا گیا ہے۔اور وہ گھڑی بہت سخت اور بہت کڑوی ہوگی۔قریش مکہ کی تباہ کن شکست کا ذکر مندرجہ بالا آیات قرآنی میں بطور پیشگوئی موجود ہے۔ان آیات کے آخری حصہ میں ان کے دردناک انجام کا ذکر ہے۔سردارانِ قریش ، جو اسلام کے پکے دشمن اور آنحضرت ا سے شدید عداوت رکھتے تھے ، ایک ایک کر کے میدان بدر میں کھیت رہے۔ابو جہل دو نوعمر مسلمان لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا۔اسی طرح شیبہ اور عتبہ چند گھنٹوں ہی میں تہ تیغ ہوکر کیفر کردار کو پہنچے۔اہل مکہ کے مایوس اور رنجیدہ دلوں پر وہ رات قیامت بن کر ٹوٹی۔وہ