الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 503
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 477 اتنے تھوڑے عرصہ میں ایسی جسمانی اور عضویاتی تبدیلیاں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ایسے معترض کو یاد رکھنا چاہئے کہ ممالیہ جانور تقریبا تمیں کروڑ سال سے موجود ہیں جو اپنے مختلف اعضاء کو حرکت بھی دیتے ہیں لیکن اوپر اٹھنے کیلئے انہیں جست لگانا پڑتی ہے اور ان کے پر کبھی بھی نمودار نہیں ہوتے۔کیا یہ امتیاز صرف جل تھلیوں ہی کا مقدر تھا ؟ لیکن یہاں سوال پروں کے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جل تھلیوں میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اپنے اندرونی عضویاتی نظام کو پرندوں کی ابتدائی شکل کے مطابق ڈھال سکتے۔ہم جانتے ہیں کہ ڈارون نے یہ نظریہ پیش کیا تھا لیکن اس کے پیش کردہ نظریہ کی وجہ سے حیات کے حقائق ہرگز تبدیل نہیں ہو سکتے۔جل تھلیوں کے ہونے یا نہ ہونے سے چنداں فرق نہیں پڑتا۔پروفیسر ڈاکٹر کو چاہئے کہ وہ پچاس کروڑ سال پیچھے ماضی میں جھانکیں جب تمام کرہ ارض اڑنے والے حشرات کی بھنبھناہٹ سے گونج رہا تھا۔آخر ان حشرات نے رفتہ رفتہ کیسے اپنے جسم میں وہ خلیاتی اور عضویاتی تبدیلیاں پیدا کر لیں جواڑ نے کے لئے ضروری ہوا کرتی ہیں؟ ہم ایک دفعہ پھر پروفیسر ڈاکٹر کے کمپیوٹر کے بنائے ہوئے خاکوں کی طرف لوٹتے ہیں جن کے وہ بیحد دلدادہ دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے صرف 29 مراحل کا ذکر کیا ہے جبکہ اس امر کا صحیح جائزہ لینے کیلئے کہ جینز کے اندر کیا کچھ ہو رہا ہے اور وہ کیسے کام کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ مراحل درکار ہوں گے۔مزید برآں ان کے اپنے بیان کے مطابق جینز میں نہ تو کوئی دماغ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کمپیوٹر، جبکہ پروفیسر موصوف کے پاس دماغ بھی ہے اور کمپیوٹر بھی اور اس کمپیوٹر سے اپنی مرضی کے مطابق نتائج حاصل کرنے کا طریق بھی انہیں معلوم ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے کمپیوٹر کی بنائی ہوئی اشکال میں سے چند مخصوص شکلوں کا انتخاب کیا اور دوبارہ کمپیوٹر میں ان کا اندراج کیا تاکہ ان شکلوں کی انگلی کڑی تیار کی جاسکے۔انہوں نے اس اہم نکتہ کو بھی نظر انداز کر دیا ہے کہ کوئی شخص بھی جہاد میں تبدیلی واقع ہونے یا نہ ہونے کے وقت کی تعیین نہیں کر سکتا۔کسی بھی سائنسدان کا ذہن خواہ کتنا ہی تیز کیوں نہ ہو خلیات کی دنیا تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔لہذا کسی بھی قابل سائنسدان کا کمپیوٹر پر بنایا گیا کوئی بھی مجوزہ خا کہ جو اس اندازہ