الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 502
476 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق طرح ایک غصیلے آدمی سے مینڈک پیدا ہو جاتا جو آگے لو مٹر کو جنم دیتا۔پھر اس سے خوبصورت لیمپ بن جاتے اور ان سے اچھلتی کودتی مکڑیاں یا چمگادڑیں پیدا ہوتیں جو تیزی سے اڑتی ہوئی تاریک غاروں میں غائب ہو جاتیں۔بالکل یہی کیفیت پروفیسر موصوف کے کمپیوٹر کی ہے جس پر آڑی ترچھی لکیروں کی مدد سے یہ کھیل کھیلا گیا۔پروفیسر ڈاکنز گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان کا تجزیہ کر کے ہمیں سمجھا ئیں تو سہی کہ انتخاب طبعی کے نتیجہ میں موجودہ انسان آخر کیسے پیدا ہو گیا؟ اپنے کمپیوٹر کی شعبدہ بازیوں کے ذریعہ مداری کی طرح ہیٹ سے چمگادڑ برآمد کرانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بہتر ہوتا کہ وہ چمگادڑوں کے تدریجی ارتقا پر روشنی ڈالتے جس کا ذکر انہوں نے بڑی عمدگی سے کیا ہے۔چاہے تو یہ تھا کہ اس مقام پر پروفیسر موصوف تھوڑ اسمارک جاتے اور یہ ثابت کر کے دکھاتے کہ اب طبعی کے عمل سے اور کچھ نہیں تو کم از کم ایک چمگادڑ کا ایک پر کیسے پیدا ہو گیا۔اب جبکہ پروں کی بات چل نکلی ہے تو اس ضمن میں گزارش ہے کہ ہمیں ان کی یہ بات پڑھ کر سخت حیرت ہوئی کہ اگر جل تھلیے (amphibians) اپنے بازوؤں کو مسلسل حرکت دیتے رہتے تو رفتہ رفتہ اڑنے والے پرندے بن جاتے اور کچھ نہیں تو پر و فیسر ڈاکٹر کو کم از کم اتنا علم تو ہونا چاہئے تھا کہ بازوؤں کو حرکت دینے یا مروڑنے سے پر پیدا نہیں ہو جاتے خواہ یہ عمل اربوں سال تک ہی کیوں نہ جاری رہے۔ایک اڑنے والے پرندہ کی جسمانی ساخت تو کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔اگر بازوؤں کی اوپر نیچے کی حرکت کسی پرندے میں عضویاتی تبدیلیاں پیدا کرسکتی اور اس کے نتیجہ میں اس کی سینے کی ہڈی کی تراش خراش ممکن ہوتی تو شاید ہم پروفیسر صاحب کی اس بے معنی اور لغو تجویز پر غور کر سکتے۔لیکن اڑنے کیلئے صرف پر ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ کسی بھی پرندے کے ڈھانچے میں موجود ہلکی اور کھوکھلی ہڈیوں کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔نیز یہ کہ بازوؤں کی اوپر نیچے کی جسمانی حرکت سے پر پیدا نہیں ہوا کرتے۔بازو اس طرح خواہ قیامت تک حرکت کرتے رہیں اس کے نتیجہ میں پروں کی پ بھی نہیں بن سکتی۔ہماری نظر سے ابھی تک ورزش کروانے والا کوئی ایسا استاد نہیں گزرا جس کے بازو چھوٹے چھوٹے پروں سے مشابہ روئیدگی سے بھر گئے ہوں اور جو رفتہ رفتہ مکمل پروں میں تبدیل ہو جائیں۔کوئی ماہر حیاتیات اس پر یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ انسٹرکٹر کی عمرانی قلیل ہے کہ وو