الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 497

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 473 اگر اس کی بقا میں تدریجی عمل ارتقا کا دخل تھا تو اس نے ارتقا کی ایسی ناممکن صورت آخر کیونکر اختیار کی ؟ اتنی لمبی اور ٹیڑھی ٹیوب کے پیدا کرنے اور اپنے رس کو اس کے پیندے میں چھپانے کا آخر کیا مقصد تھا ؟ اسی طرح کسی پرندے یا پروانے کو روکنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ اس پھول کی تہ میں موجودرس تک نہ پہنچ سکے اور زیرگی (pollination) کے ذریعہ تولیدی عمل کو بروئے کار لا سکے۔ایک پودے اور جانور میں اپنی اپنی جگہ مختلف لیکن بیک وقت ہونے والے ارتقائی عمل کو اتفاقی قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیا پروفیسر ڈاکٹر مذکورہ بالا مسئلہ کا کوئی حل پیش کر سکتے ہیں؟ یہ پھول اور غیر معمولی لمبی سونڈ رکھنے والا ہاک ماتھ (hawk-moth) یعنی عقاب نما پروانہ ارتقائی نظریہ کے تحت بیک وقت دونوں کیسے معرض وجود میں آگئے ؟ کیا کہیں پروانوں کی بھی اتنی لمبی اور ٹیڑھی چونچ ہوا کرتی ہے؟ قبل اس کے کہ انتخاب طبعی اپنا کام شروع کرتا پروانوں کی کتنی ہی اقسام بنی اور مٹی ہوں گی۔پھول اور پروانے کا آغاز نہایت معمولی حالت سے ہوا ہوگا اور دونوں کو مسلسل اس امر سے باخبر رہنا پڑا ہوگا کہ دوسری طرف کیا ہو رہا ہے تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل اور بناوٹ کے عین مطابق ارتقا پذیر ہوسکیں۔بالآخر دونوں ایک واحدا کائی کی صورت میں با ہم اس طرح منسلک ہو گئے ہوں گے کہ بحیثیت جانور اور پودے کے ان کی الگ الگ شناخت مٹ گئی ہوگی۔ان سوالوں کا جواب دینے کے بعد پروفیسر موصوف کو چاہئے کہ وہ ان قوتوں پر بھی روشنی ڈالیں جن کے زیر اثر ان کی نشوونما الگ الگ لیکن کامل آہنگی کے ساتھ ہوئی اور یہ بھی بتائیں کہ انتخاب طبعی کا کونسا اندھا اصول یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا تھا ؟ پھول اور پروانہ جن لاکھوں چھوٹے چھوٹے ارتقائی مراحل میں سے گزرے، اصول اتفاق کی رو سے اس دوران غلط سمت میں اٹھنے والے قدموں کی تعداد صحیح سمت میں اٹھنے والے قدموں کی نسبت بہت زیادہ ہونی چاہئے تھی۔انتخاب طبعی کے اند ھے اصول کو ان لاکھوں مراحل میں سے کچھ کو منتخب کرنے اور باقی کو رد کرنے کا بہت بھاری کام کرنا پڑا ہوگا۔لیکن اس کے باوجود انتخاب طبعی کا فیصلہ بالآخر غلط ثابت ہوا۔ایک ایسا پھول پیدا ہوا جس کا بار آور ہونا تقریباً ناممکن تھا اور ایک ایسا پروانہ ظہور میں آیا جس کی بقا کا تمام تر دارومدار ایک مخصوص پھول کی تکمیل پر تھا۔