الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 24
24 اسلامی مکاتب فکر دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے درمیان ایک واضح اور مبین حد فاصل موجود ہے۔اگر چہ مخلوق خالق کی مظہر ہے اور اس پر اس کے خالق کی چھاپ کے نقوش ثبت ہیں تا ہم مخلوق کو خالق کی ذات میں شامل نہیں سمجھا جا سکتا۔اس کے بالمقابل بعض دوسرے مسالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ تمام کا ئنات اللہ تعالیٰ کی مظہر ہے اس لئے خالق اور مخلوق کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں کی جا سکتی۔ان کے خیال میں مخلوق کو خالق سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی اس فطرت سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس پر اس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔لہذا دونوں کے درمیان کوئی حد فاصل نہیں کھینچی جاسکتی۔چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا کائنات ہے اور کائنات خدا۔اس کے باوجود مادہ کے قدرتی خواص میں اللہ تعالیٰ کی آزادانہ مرضی کارفرما ہے۔بادی النظر میں کائنات کا یہ تصور مکمل طور پر وحدت الوجود کا آئینہ دار دکھائی دیتا ہے یعنی خدا سب کچھ ہے اور سب کچھ خدا ہے۔لیکن یادر ہے کہ وحدت الوجود کا نظریہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ وجود کے خارج میں بھی ایک مقتدر اور با اختیار ہستی موجود ہے جو بنی نوع انسان سے بذریعہ الہام مخاطب ہوتی ہے، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی اور اس کی رہنمائی فرماتی ہے۔مسلمان صوفیاء وحدت الوجود کے اس روایتی نظریہ کے برعکس خدا کی الگ ذات پر یقین رکھتے رہے ہیں جو خالق ہے اگر چہ اس کا عکس مخلوق میں نظر آتا ہے۔جہاں تک صوفیاء کرام کے مزاج کا تعلق ہے وہ تند و تیز مباحثوں کی طرف بہت کم راغب ہوئے۔وہ اپنے عقائد کے اظہار میں معتدل رہے اور مخالفانہ رائے کو صبر وتحمل سے برداشت کرتے رہے۔لیکن یہ بات کثر ملاؤں کے بارہ میں نہیں کہی جا سکتی جو رفتہ رفتہ حسد میں بڑھتے ہی چلے گئے۔اس لئے اکثر صوفی فرقوں کو انتہا پسند ملائیت کے ہاتھوں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ملاؤں کی طرف سے اکثر جوابی تحریکیں اٹھتی رہیں اور وقتا فوقتا ہر صوفی فرقہ کو شدید جارحیت کے مراحل میں سے گزرنا پڑا۔اور وہ صوفی حضرات جو وحدت الوجود کے عقیدہ سے وابستہ رہے خاص طور پر انتہا پسند علماء کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے۔یہاں تک کہ بعض اوقات تو وہ موت کے سزاوار بھی ٹھہرے اور بڑی سفاکی سے قتل کئے گئے۔ان کا یہ احتجاج کہ ان کا وحدت الوجود کا فلسفہ کبھی بھی خالق مطلق کی الگ ذات کے موجود ہونے کے خلاف نہیں رہا، کسی کام نہ آیا اور ان کی اس بنا پر شدید مذمت کی گئی کہ وہ خدا کی خدائی