الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 463
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 443 نہیں کر سکتیں۔انتہائی مدھم روشنی میں رنگ یا تو بہت ہلکے نظر آتے ہیں یا بالکل ہی دکھائی نہیں دیتے۔جب بھی کوئی روشنی سے تاریکی میں جاتا ہے تو وہاں موجود اشیاء کو دیکھنے کیلئے اسے جتنا وقت درکار ہوتا ہے وہ دراصل راڈز کے دوبارہ فعال ہونے کا وقت ہے۔کوئز اور راڈز ان لہروں کے ارتعاش کو ریٹینا (retina) کے سامنے موجود گینگلیا (ganglia) کو منتقل کر دیتے ہیں اور انہیں متحرک کر دیتے ہیں۔گینگلیا سے نکلنے والے پانچ لاکھ عصبی ریشے ان لہروں کو دماغی عقب تک پہنچاتے ہیں جو عصب بصری (optic nerve) کہلاتا ہے۔جس مقام پر عصب بصری اور پردہ چشم باہم ملتے ہیں وہ بلائنڈ سپاٹ (blind spot) کہلاتا ہے کیونکہ وہاں کسی بھی قسم کے کونز اور راڈ ز نہیں ہوتے۔ہر آنکھ کے عقب سے الگ الگ آپٹک نرو (optic nerve) ہی دماغ میں فتح کبیر (cerebrum) کے آکسی پٹل حصہ (occipital lobe) تک بصارت کے پیغامات پہنچاتی ہے جو بصارت کا مرکز ہے۔یہ مرکزی حصہ مزید دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک حصہ ایک آنکھ کیلئے مخصوص ہے اور دوسرا دوسری آنکھ کیلئے۔کچھ اعصاب دائیں ڈیلے سے بائیں حصہ میں اور کچھ بائیں ڈیلے سے دائیں حصہ میں داخل ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہے تو دماغ کے دونوں حصوں میں اسی کی شبیہ ابھرتی ہے۔8 ریٹینا جو عکس بناتا ہے وہ الٹا ہوتا ہے مگر بصارت سے متعلق مرکزی حصہ میں پہنچ کر وہ پھر سیدھا ہو جاتا ہے۔بصارت کا مرکز دیگر بہت سے محیر العقول کام سرانجام دیتا ہے۔یہ عکس در اصل بہت چھوٹا ہوتا ہے مگر یہاں پہنچ کر اُس کا سائز مکمل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات یہ عکس اصل شبیہ سے لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں گنا بڑا ہوتا ہے۔ستاروں پر ایک نظر ڈالیں تو دماغ میں اس عظیم کائنات کا جو عکس ابھرتا ہے وہ ریٹینا پر پڑنے والے عکس سے کئی کھرب گنا بڑا ہوتا ہے۔یہ حیرت انگیز عمل تنہا آنکھ ہی نہیں کرتی بلکہ بصری نظام کے تینوں بنیادی اعضاء اس میں برابر کے شریک ہیں لیکن اس سارے عمل کے نتیجہ میں بننے والی شبیہ دماغ میں موجود بصارت کے مرکز ہی کی مرہون منت ہے۔ریٹینا لبعض اور بھی حیران کن کام سرانجام دیتا ہے۔یہ ایسی فلم کی طرز پر کام کرتا ہے جو عکس وصول کر کے انہیں فورا صاف کر دیتی ہے اور نئے مناظر پرانے مناظر کی جگہ لے لیتے ہیں۔یہ