الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 19

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 19 اسلوب بخشا۔یہ وہ دور تھا جب بعض مسلمان علماء تیزی سے عقلیت پسندی کی طرف مائل ہو رہے تھے اس لئے اس رجحان کے رڈ کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس جوابی تحریک کے سر براہ مشہور امام اسمعیل الا شعری تھے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ الاشعری کے اپنے استاد الجبائی (وفات 303ھ) اس وقت کے سرکردہ عقلیت پسند تھے۔امام اشعری نے نہ صرف عقلیت پسندوں سے اختلاف کیا بلکہ ہر اس نظام کی خامیوں کو پر زور طریق پر بیان کیا جو سچائی کی شناخت کے لئے کلیۂ عقل پر انحصار کرتا ہے۔اشعریہ کے نزدیک عقلیت پسندی نہ تو کسی یقینی علم کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نہ ہی اس سے ابدی صداقت تک رسائی ممکن ہے بلکہ شکوک و شبہات کی طرف لے جاتی ہے۔اشعریہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ حقیقی علم صرف عرفان حق سے وابستہ ہے کیونکہ حق کا ابدی سرچشمہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے حصول کا واحد راستہ وحی الہی ہے۔عقلیت پسندی کے خلاف رد عمل میں بعض اشعری اس انتہا تک چلے گئے کہ انہوں نے قرآنی آیات کی ہر منطقی تفسیر کو بھی مسترد کر دیا یہاں تک کہ انہوں نے قرآنی آیات کے مجازی معنوں کا بھی مطلق انکار کر دیا۔امام اشعری خود ماہر منطقی تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عقلیت پسندی کے خلاف ان کے پیش کردہ دلائل کی بنیاد خود عقل پر رکھی گئی ہے۔اس امر کی وضاحت ان کے اپنے استاد الجبائی کے ساتھ ایک مناظرہ سے بخوبی ہو جاتی ہے جس میں اشعری نے الجبائی سے سوال کیا کہ آپ کی ان تین بھائیوں کی نجات کے بارہ میں کیا رائے ہے جن میں سے ایک مومن ہو، ایک کافر اور ایک ابھی بچہ ہو؟ الجبائی نے جواب دیا کہ مومن جنت میں جائے گا اور کافر جہنم میں، جبکہ بچہ نہ تو جنت میں جائے گا اور نہ ہی جہنم میں کیونکہ بچہ اپنے اعمال کی بنیاد پر کسی جزا سزا کا مستحق نہیں۔اس پر اشعری نے کہا کہ بچہ خدا سے سوال کر سکتا ہے کہ تو نے مجھے کچھ وقت دیا ہوتا تو میں بھی کچھ اچھے اعمال کر لیتا۔پس مجھے جنت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے؟ الجبائی نے جوابا کہا۔خدا کہہ سکتا ہے کہ میں جانتا تھا کہ تم بڑے ہو کر برے عمل کرو گے اس لئے کم سنی میں تمہاری موت در حقیقت تم پر شفقت ہے کیونکہ اس طرح تم جہنم سے بچ گئے ہو۔اشعری نے برجستہ کہا اس صورت میں کا فر بھی یہ کہ سکتا ہے کہ اے خدا! تو نے مجھے بھی کیوں نہ بچپن میں وفات دے دی تا کہ میں بھی برے اعمال سے بچ جاتا؟