الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 436
422 کرۂ ارض پر زندگی کا مستقبل ترجمہ: تمہاری پیدائش اور تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا محض نفس واحدہ ( کی پیدائش اور اٹھائے جانے ) کے مشابہ ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت سننے والا (اور ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہ وہ آیت ہے جو اس مضمون کو مزید آگے بڑھاتی ہے اور حیات بعد الموت کی تف ایک نئی راہ کھولتی ہے۔موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا تعلق ہر فرد بشر کی پیدائش سے ہے۔اگر نطفہ اور ہیضہ کے ملاپ کی ابتدائی حالت پر غور کیا جائے اور پھر اس کے نتیجہ یعنی ایک صحیح سالم بچہ کی پیدائش کا تصور کیا جائے تو یہ سب بظاہر نا قابل یقین دکھائی دے گا۔ذرا تصور کریں کہ معمولی سے بار آور بیضہ کا نو ماہ بعد ایک جیتے جاگتے اور بھاگتے دوڑتے بچہ کی شکل اختیار کر لینا کتنی عظیم تبدیلی ہے۔ایسا شخص جس نے بار بار تبدیلی کے اس عمل کا مشاہدہ نہ کیا ہو وہ بار آور بیضہ کے صرف ابتدائی مراحل کو دیکھ کر اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ایسا ہی وقوع میں آیا ہو گا۔حیات بعد الموت اسی حیرت انگیز عمل سے مشابہ ہے۔یعنی عدم سے نہایت درجہ ترقی یافتہ اور منظم حیات کا وجود میں آنا۔انسان کے ارتقا کا محض ایک نامیاتی اکائی سے موجودہ حالت تک کا سفر اپنی ذات میں ایک عظیم الشان انقلاب ہے۔زندگی کی ابتدائی حالتوں کے لئے ارتقا کے ایسے مستقبل کا تصور بھی ناممکن ہے جو بالآخر انسان کی تخلیق پر منتج ہو خواہ انہیں پہلے سے اس کا شعور حاصل بھی کیوں نہ ہو۔جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انہیں اپنی ہستی کا اتنا معمولی شعور حاصل ہے کہ انسانی نقطہ نگاہ سے اسے شعور قرار دینا بھی بے حد مشکل ہے۔یہ ایک نہایت حکیمانہ بیان ہے، اگر چہ مختصر لیکن دور رس نتائج کا حامل! نیز یہ ارتقا کی ساری داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اس کا منطوق یہ ہے کہ تمہاری موجودہ حالت اور بعث بعد الموت کی حالت کے مابین اتنا ہی زیادہ فرق ہوگا جتنا کہ زمین پر زندگی کی ابتدائی حالت کا تمہاری موجودہ حالت سے ہے۔یہ ایک عظیم الشان تبدیلی ہوگی۔اور موت بہ کے بعد جس حالت میں تمہیں اٹھایا جائے گا اس کی نوعیت کا تصور کرنا بھی تمہارے لئے ناممکن ہے۔تا ہم اس بدیہی نتیجہ سے مفر ممکن نہیں کہ تمہاری پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے جس کے تم منکر ہو کہیں بڑھ کر نا قابل یقین ہے۔ممکن ہے کہ بعث بعد الموت کے بعد ایک روح کو اپنے