الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 428

414 شطرنج کی بازی یا اتفاقات کا کھیل یہ امکان اسی صورت میں تسلیم کیا جاسکتا ہے اگر ہم یہ تصور کریں کہ ایک کباڑ خانہ میں طوفان 700 کے نتیجہ میں اچانک ایک بوئنگ 747 ہوائی جہاز تیار ہو جائے۔7 پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک ممتاز ماہر حیاتیات پروفیسر ایڈون کونکلن (Edwin Conklin) اس بارہ میں لکھتے ہیں : زندگی کا حادثاتی طور پر وجود میں آجانا ایسا ہی ہے جیسے یہ تصور کیا جائے کہ کسی چھا پہ خانہ میں 8<< 966 دھما کہ کے بعد ایک مکمل لغت تشکیل پا جائے۔ایک اور ماہر حیاتیات ڈاکٹر و نچسٹر (Dr۔Winchester) اعتراف کرتے ہیں کہ:۔سائنس کے میدان میں سالہا سال کی تحقیق کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ پر میرا ایمان بجائے متزلزل ہونے کے اور بھی مضبوط اور پختہ ہو گیا ہے۔سائنس کی ہر نئی دریافت اس بزرگ و برتر ہستی کے جاہ وجلال اور قدرت کاملہ پر از دریادایمان کا باعث ہوتی ہے۔" اگر ارتقا کو اندھے اتفاقات کا نتیجہ قرار دیا جائے تو اس کیلئے اتنا غیر معمولی طویل عرصہ درکار ہو گا کہ جس کے تصور سے بھی بڑے سے بڑے حساب دان کا ذہن چکرا جاتا ہے۔اس طویل مدت کو نہ تو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی انسانی ذہن ان اعداد و شمار کی وسعت کا کما حقہ ادراک کر سکتا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے پروفیسر امین کے نزدیک لحمیات کی حادثاتی تخلیق کیلئے 10248 سال کا عرصہ درکار ہے۔ظاہر ہے کہ اگر صرف لحمیات بنے کیلئے اتنا عرصہ چاہئے تو ارتقا کے سارے سفر کیلئے تو اس سے بھی کہیں زیادہ عرصہ درکار ہوگا۔اس حسابی تصور سے نا آشنا قاری کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ "Big Bang" سے اب تک کائنات کی کل عمر 18 تا 20 ارب سال ہے۔ابھی تک اتنا بڑا عدد ایجاد نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکے گا جس کے ذریعہ پروفیسر ایلین کے پیش کردہ عظیم الشان اعداد و شمار بیان کئے جاسکیں۔اس کے قریب ترین لفظ شاید ابدیت کا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ تحقیق کا ئنات اور ارتقائے حیات کا یہ