الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 403 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 403

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 391 کہ ماہرین حیاتیات بیشمار چھوٹے چھوٹے موزوں اور مناسب حال ارتقائی مراحل کا خیال پیش کر کے اس وسیع خلا کو پر کرنے کی کوشش کریں۔اس قسم کے مواد کی عدم موجودگی میں یہ تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ انتخاب طبعی کا عمل کسی ایسی چیز میں کارفرما رہا ہو جس کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ماہرین حیاتیات کی دلیل کو لغو ثابت کرنے کیلئے صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ ان کے نزدیک ایک ایسی ماں کے ہاں بھی بچہ پیدا ہو سکتا ہے جو خود ہی موجود نہیں۔کیا بتائے اصلح کا اصول، ارتقا کی یہی تصویر پیش کرتا ہے؟ کیسی بقا اور کیسی موزونیت اور کہاں کا مقابلہ؟ اگر سائنسدانوں کے پاس پیشہ ورانہ مہارت کا ضابطہ اخلاق موجود ہے، جو عموماً ان میں پایا جاتا ہے تو ان کو اپنے ضابطہ اخلاق کو ان گوشت خور پودوں پر اطلاق کر کے دیکھنا چاہئے جو انتخاب کے زمرہ میں داخل ہونے سے قبل ہی شکار کرنے کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر لیس تھے۔اگر اسی کا نام انتخاب طبعی" ہے تو یہ عقل سلیم Common Sense) کی سراسر تضحیک ہے۔مچھر کی مثال ہی لے لیں۔اس میں مخفی رازوں سے پردہ اٹھانے اور اس کے اجزائے ترکیبی اور اعلیٰ نظام کے بارہ میں منطقی اعتبار سے تشریح و توضیح کی اس قدر مچھر ضرورت ہے کہ اس مقصد کے لئے سائنسدانوں کی کئی نسلیں درکار ہوں گی۔یہ ایک نہ ختم ہونے والی تحقیق ہے کیونکہ اس کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کیلئے جب بھی سائنسدان ایک مرحلہ فکر طے کرتے ہیں تو انہیں ایک اور مرحلہ کا سامنا ہوتا ہے۔چنانچہ یہ امر تعجب انگیز نہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے تخلیقی عجائبات کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس چھوٹے سے تخلیقی معجزہ کو پیش کرتا ہے۔وہ مچھر جسے انسان انتہائی حقیر جانتا ہے اس کی تخلیق بھی خالق کیلئے باعث عار نہیں۔موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم قاری کو اڑنے والی اس مشین کی ایسی باریکیوں سے آگاہ کرتے ہیں جن کے سامنے جدید تکنیکی ماہرین کے کار ہائے نمایاں بھی بے حقیقت نظر آتے ہیں۔اب ہم مچھر سے متعلق جو دیگر تمام جانوروں سے بہت مختلف ہے قرآنی بیان کا ذکر کرتے