الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 328

322 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِةُ ( الرحمن 15:55) ترجمہ: اُس نے انسان کو مٹی کے پکائے ہوئے برتن کی طرح کی خشک کھنکتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا۔وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ( الحجر 27:15) ترجمہ: اور یقینا ہم نے انسان کو گلے سڑے کیچڑ سے بنی ہوئی خشک کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں سے پیدا کیا ہے۔جیسا کہ مندرجہ بالا آیات وضاحت سے بتاتی ہیں کہ جس طرح ظروف سازی کیلئے چکنی مٹی کی پلیٹیں استعمال کی جاتی ہیں اسی طرح زندگی کے آغاز میں استعمال ہونے والا مواد سیاہ گارے جیسا گلاسرا نامیاتی مادہ ہی تھا۔چونکہ مفسرین اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ انسان مٹی کے برتنوں سے کس طرح بنایا گیا ہوگا اس لئے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ جب ٹھیکریاں آپس میں ٹکراتی ہیں تو آواز پیدا ہوتی ہے۔اس وجہ سے انہوں نے سمجھا کہ اس آیت میں انسان کے بولنے کی صلاحیت کا ذکر ہے۔یہ ایک دور کی کوڑی ہے جس سے الفتخار کے اصل معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔اب جبکہ ہم نے عمل ارتقا کے درمیانی (intermediary) مراحل کو سمجھنا شروع کر دیا ہے، جب زندگی کے اجزائے ترکیبی تشکیل پارہے تھے لہذا ہمارے لئے اس اصطلاح کو بہتر طور پر سمجھنا ممکن ہو گیا ہے۔اس پس منظر میں قرآنی اصطلاح الفتخار کا یہی مفہوم ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب یہ مادہ مزید خشک ہوا تو چکنی مٹی کی غیر متناسب قلمیں بنی ہوں گی جو نہایت باریک اوراق کی صورت میں ایک دوسرے کے اوپر ظروف سازی کی مانند تہ بہ تہ واقع ہوئی ہوں گی۔ایک اور دلچسپ بات یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ باریک نہ چڑھانے کا یہ عمل ایک اور اہم مقصد کو بھی پورا کرتا ہے یعنی کیمیاوی رد عمل کے لئے مادہ کے حدود اربعہ کو مزید وسیع کر دیتا ہے۔ابرق اور چکنی مٹی سیلیکیٹ کی تہوں پر مشتمل ہوا کرتے ہیں جن کے درمیان پانی