الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 326

320 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار بہتر ہوتے ہیں۔اس مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی محلول ساحل کی ریت، پتھر اور کیچڑ سے ٹکرانے کے بعد ہی خشک ہوا ہوگا۔عین ممکن ہے کہ ابتدائی محلول کا ساحل سے یوں ٹکرا نا اس اہم ضرورت کے تحت ہوتا کہ پانی میں بننے والے ابتدائی ادنی مرکبات کا ارتقا ایسے اعلیٰ مرکبات کی صورت میں ہو سکے جو واپس اپنی ادنیٰ حالت کی طرف نہ لوٹ سکیں۔اس بارہ میں پیش کئے جانے والے نظریات میں سے سب سے زیادہ دلچسپ اور قابل قبول وہ نظریات ہیں جو سیلیکا (Silica) اور چکنی مٹی کے ذریعہ سطح پر ہونے والے عمل انگیز ( Catalyst) کو پیش کرتے ہیں۔اس کی نشاندہی سب سے پہلے جان برنل (John Bermal) نے 1951 میں کی۔چنانچہ وہ اپنی کتاب 'The Physical Basis of Life میں لکھتے ہیں: چکنی مٹی ، کیچڑ اور غیر نامیاتی قلمیں (Crystals) وہ طاقتور ذریعہ ہیں جن کے ارتکاز اور 1<< تکثیر (Polymerize) سے نامیاتی مادے تشکیل پاتے ہیں۔1 اس نظریہ کی مقبولیت میں آج تک کمی نہیں آئی۔" سڈنی۔ڈبلیو۔فاکس (Sydney, W۔Fox) نے تجربات سے ثابت کیا کہ امینوایسڈ کرہ ارض کے قدیمی حالات میں بھی بآسانی کثیر الترکیبیہ سازی یا عمل تکثیر سے پولی پیپٹائڈز (Polypeptides) بن جاتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ یہ عمل برقی اخراج سے حاصل ہونے والی توانائی سے یا حرارت سے یا بعض اقسام کی چکنی مٹی اور پولی فاسفیٹ (Polyphosphate) کے باہم ملنے سے ظہور میں آتا ہو 2۔کیرمز سمتھ (Caims-Smith) نے اس نظریہ کو مزید آگے بڑھایا۔برنل (Bernal) کا خیال تھا کہ چکنی مٹی کے علاوہ نامیاتی سالموں کی تشکیل والے Silicon کی موجودگی بھی ضروری تھی جبکہ کیر نز سمتھ کے نزدیک غالباً چکنی مٹی ہی سے ضروری نامیاتی مرکبات بنے ہوں گے۔ان کے 1966 کے تحقیقی مقالہ کے آغاز میں ہی اس نظریہ کا ذکر واضح طور پر موجود ہے۔تاہم بعض سائنسدان اس بات پر مصر ہیں کہ نامیاتی مواد کا ارتقا پانی کے بغیر ہوا ہو گا۔کیونکہ اگر پانی ہوتا تو آب پاشیدگی کے مسلسل عمل کے باعث یہ مواد اپنی پہلی حالت میں لوٹ