الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 313

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 307 سے ایک یہ تھا کہ کیسے اور کونسے اتفاقی کھیل کے نتیجہ میں غیر نامیاتی مادہ نامیاتی مادہ میں تبدیل ہو گیا۔جو بالآخر زندگی کے اجزائے ترکیبی کی بنیاد بنا۔چنانچہ یوری کا تجر بہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا اور اس پر مزید تحقیق ہونے لگی۔سائنسدانوں نے ٹیسٹ ٹیوب میں بننے والے مادہ کے نمونوں کا تنقیدی جائزہ لیا تو انہیں متر کے تجربہ میں کئی خامیاں نظر آئیں جس کی وجہ سے اس کے تجربہ کی اہمیت کم ہوگئی۔ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ تجربہ گاہ میں اصل حالات مکمل طور پر پیدا نہیں کئے جاسکتے۔اور یہ تجربہ تو صرف ایک بوتل اور ٹیسٹ تک ہی محدود تھا۔تجربہ گاہ میں سمندری پانی کی جگہ جو پانی استعمال کیا گیا تھا اسے مستقل طور پر ابلتی حالت میں رکھا گیا جبکہ عام حالات میں ایسا ممکنات میں سے نہیں۔نیز اگر یہ بات درست بھی مان لی جائے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ سمندر اربوں سال کھولتے ہی رہے۔میلر کے مجوزہ نظریہ کے برعکس بعض سائنس دانوں کے نزدیک زندگی کی ابتدا کھولتے ہوئے پانی کی بجائے زیادہ ٹھنڈے ماحول میں ہوئی۔چنانچہ انہوں نے اپنی تحقیق کا رخ کھولتے ہوئے پانی کی بجائے ٹھوس کیمیائی عوامل کی طرف موڑ دیا۔بعض یہاں تک کہنے لگے کہ کرہ ارض پر تو زندگی کے آغاز کیلئے ماحول سازگار ہی نہیں تھا۔اس نظریہ کی تائید میں انہوں نے شہابی پتھروں کا حوالہ دیا جن میں امینوایسڈ موجود تھے۔در حقیقت ملر کے تجربہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امینوایسڈ 35 تھے۔جبکہ ان پتھروں میں موجود امینوایسڈ کی تعداد 52 تھی۔لیکن جو لوگ زندگی کے آغاز کیلئے پانی کی موجودگی ضروری سمجھتے تھے انہوں نے اس نظریہ پر کئی اعتراض کئے۔ان کا ایک بہت معقول اعتراض یہ تھا کہ فضائی سفر کے دوران رگڑ سے پیدا ہونے والی حرارت کے نتیجہ میں اگر شہاب ثاقب میں کوئی نامیاتی مادہ موجود تھا بھی تو وہ جل کر خاکستر ہو گیا ہوگا۔چونکہ اس حرارت کے نتیجہ میں فضا میں داخل ہونے والے پتھر آگ پکڑ لیتے ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ ایسا تمام مادہ زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں بھر گیا ہو گا۔اگر ان پتھروں میں امینوایسڈ پائے بھی گئے ہیں تو وہ زمین پر گرنے کے بعد ان میں داخل ہوئے ہوں گے۔جن سائنس دانوں کا خیال تھا کہ نامیاتی مادہ شہاب ثاقب کے ذریعہ زمین پر پہنچے انہوں نے اس اعتراض کے جواب میں تجویز کیا کہ یہ