الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 303

الهام ، عقل ، علم اور سچائی ترجمہ: اس نے انسان کو مٹی کے پکائے ہوئے برتن کی طرح کی خشک کھنکتی ہوئی مٹی سے تخلیق کیا۔297 یہاں ٹھیکری کی اس حالت کا ذکر مقصود ہے جس میں سے آواز آتی ہو۔اسی طرح سورۃ الحجر میں بھی مٹی کا ذکر موجود ہے۔لیکن وہاں مٹی کی حالت سڑے ہوئے گاڑھے گارے کی مانند بیان کی گئی ہے۔غرضیکہ قرآن کریم زندگی کے آغاز کا جو نقشہ پیش کرتا ہے اس میں درجہ بدرجہ خشک مٹی، پانی، گیلی مٹی اور پھر ایسے سڑے ہوئے گارے کا ذکر ہے جس نے بعد میں خشک ہو کر کھنکتی ہوئی مٹی کی شکل اختیار کر لی۔آخری دو مراحل خصوصی توجہ کے محتاج ہیں کیونکہ نزول قرآن کے وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ انسانی پیدائش کا تعلق کیچڑ یاکھنکتی ہوئی مٹی سے ہو سکتا ہے۔اس بارہ میں سائنسدانوں کا موقف ہم مختصراً آگے چل کر بیان کریں گے تا کہ قاری سائنسی تحقیق اور قرآن کریم کے پیش کردہ حقائق کا موازنہ کر کے آزادانہ طور پر نتیجہ اخذ کر سکے۔ایک طرف الہام الہی پرمبنی قرآن کریم کا بیان ہے اور دوسری طرف ایسے سائنسدانوں کی سوچ اور کاوش جنہوں نے زندگی کے آغاز کی جستجو میں اپنی زندگیاں سائنسی تحقیقات پر صرف کر دیں تو قاری پر یہ واضح ہو جائے گا کہ جب بھی اور جہاں بھی سائنسی تحقیق کسی ٹھوس نتیجہ پر پہنچتی ہے تو وہ نتیجہ قرآن کریم کی پیش کردہ تصویر کے عین مطابق ہوتا ہے۔حالانکہ نزول قرآن کے وقت سائنس ابھی اس قدر ترقی یافتہ نہیں تھی کہ زندگی کے آغاز اور اسرار کا کھوج لگا سکے۔ان قرآنی آیات کا مقصد یقیناً آج کے ترقی یافتہ انسان کے استفادہ کیلئے ہے تا کہ اس کا ایمان ایک علیم و خبیر خدا کی ہستی پر مستحکم ہو جائے۔اس ضمن میں قرآنی تعلیم عام زندگی کی تخلیق یا بقا با مقصد ہے یا اتفاقی؟ | خیال کے بالکل بیکس ہے۔قرآن کریم کے مطابق اس زندگی کا ہر قدم با مقصد ہے اور انفرادی یا اجتماعی سطح پر اس کے ارتقا اور بقا میں کسی قسم کا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوا۔ہر چیز کی حفاظت کا ایسا سامان کیا گیا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرہ سے محفوظ رہ سکے اور زندگی کی بازی نہ ہار جائے۔چنانچہ مختلف انواع کی بقا کسی بھی صورت