الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 302

296 حيات : وحئ قرآن کی روشنی میں آیا۔قرآن کریم میں اس دور کے ذکر کے ساتھ ایک خاص مخلوق یعنی جن کا ذکر ملتا ہے لیکن یہ جن روز مرہ کی بول چال میں مذکور جنوں اور بھوتوں سے قطعی طور پر مختلف ہیں۔انسانی ذہن میں جنوں اور بھوتوں کا تصور عجیب و غریب قسم کے تو ہمات پر مبنی ہوا کرتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ جنوں میں آدھی انسانی اور آدھی بھوتوں اور چھلاووں والی صفات پائی جاتی ہیں یہ اپنی منشا کے مطابق شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔یہ عموماً عورتوں اور کمزوروں میں دہشت پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ فلاں پر جن چڑھ گیا ہے۔نام نہاد پیر مختلف الہامی کتب کی بعض مخصوص آیات کے ذریعہ انہیں قابو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک بار قابو میں لانے کے بعد جنوں سے حیرت انگیز کام لئے جا سکتے ہیں۔مثلاً اپنی مرضی سے اچانک کسی چیز کو ہوا میں اچھال دینایا پیاروں کو اپنی طرف مائل کرنا یا دشمن کو زیر کرنا وغیرہ۔بہر حال قرآن کریم میں ابتدائے آفرنیش کے حوالہ سے بیان کئے گئے جنوں کا ہرگز ہرگز اس قماش کے جنات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ جن تو محض انسانی و ہم کی پیداوار ہیں۔قرآن کریم میں بیان کردہ جوں کا تفصیلی ذکر ایک علیحدہ باب میں کیا جائے گا۔قرآن کریم زندگی کے ارتقائی سفر کے حوالہ سے خشک اور تخلیق میں مٹی کا کردار گیلی مٹی کا ذکر بار بار کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: خَلَقَ مِنْ تُرَابٍ (ال عمران (00:3) ترجمہ: اسے اس نے مٹی سے پیدا کیا۔اس ضمن میں قرآن کریم کا مزید ارشاد ہے: خَلَقَكُمْ مِّنْ طِينٍ (الانعام 3:6) ترجمہ: اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا گیلی مٹی سے تخلیق کا ذکر سورۃ رحمان میں کچھ اس انداز سے ملتا ہے: خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِقُ (الرحمن 15:55)