الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 186

182 سيكولر نقطه هائے نظر کا تجزیه کے وصال کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اور بالآخر اتنی محنت سے پایا ہوا عقیدہ توحید کمزور پڑنے لگتا ہے۔جب ایمان کمزور پڑتا ہے تو تو ہم پرستی غالب آنے لگتی ہے۔ایک واحد اور قادر مطلق خدا پر ایمان متزلزل ہو جاتا ہے اور توحید کا تصور پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے۔عبادت گاہیں جھوٹے کاہنوں کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔بد دیانت ملاں اور مذہبی اجارہ دار عوام الناس کو دھوکہ وفریب دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔جملہ مذاہب بلا استثناء انسانی معاملات میں اخلاقیات کے کردار پر بڑا زور دیتے ہیں۔ان کا دیگر امور میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اخلاقیات کی اہمیت کے بارہ میں کوئی اختلاف نہیں۔یہ ایک ایسا عالمگیر رجحان ہے جو ہر زمانہ میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔مذہب پر امراء اور صاحب اقتدار لوگوں کی طرف داری کا الزام صرف اور صرف انحطاط پذیر دور کے حوالہ سے تو کسی حد تک درست ہوسکتا ہے لیکن مذہب کی ابتدائی تاریخ کی روشنی میں نبی کی بعثت کے وقت یہ الزام کسی طور بھی ہرگز قابل قبول نہیں۔نبی جن اقدار کا درس دیتا ہے وہ ہمیشہ حق و انصاف کی حمایت اور بد اخلاقی اور کمزور اور بے سہارا لوگوں کے استحصال کے خلاف علم جہاد بلند کیا کرتی ہیں اور ہمیشہ مظلوم کے ہاتھ ظالم کے خلاف اور شکار کے ہاتھ شکاری کے خلاف مضبوط کرتی ہیں۔کیا دنیا میں کبھی مذہبی اخلاقیات نے مظلوم کی بجائے ظالم کی حمایت کی ہے؟ مذاہب کی تاریخ کا جتنا بھی مطالعہ کر لیں آپ کو اس کی ایک بھی مثال نہیں ملے گی۔ہر مذہب نے کمزور اور غریب کے حقوق کی حفاظت کیلئے قوانین ترتیب دیئے جن کے حقیقی نفاذ کی ضمانت خدائے علیم وخبیر پر ایمان میں مضمر ہے۔مومن جو کچھ کرتا ہے یا جو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ خدا کے علم سے باہر نہیں ہوتا۔لیکن انسان کے وضع کردہ قوانین کے نفاذ کے بارہ میں ایسی کوئی ضمانت موجود نہیں۔اس کا وضع کردہ نظام ہمیشہ اس لئے ناکام رہتا ہے کہ مجرم کو اس بات کا اطمینان ہوتا ہے کہ قانون ساز اسے دیکھ نہیں رہا۔قانون کی حفاظت کیلئے مقرر کی گئی شدید ترین سزاؤں کا خوف بھی مجرم کے ہاتھ نہیں روک سکتا کیونکہ یہ خوف جرائم کی پرورش گاہوں یعنی مخفی نیتوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔مجرم کو اپنا بچاؤ ہمیشہ اس امید میں نظر آتا ہے کہ اس کی نیت کی طرح اس کا جرم بھی قانون کی نظر سے مخفی رہے گا۔جھوٹ کی آڑ میں تحفظ تلاش کرنا بھی جرائم کا ایک بڑا محرک ہے۔