الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 169

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 165 اور بے ترتیب ہے، اس لئے اگر اس بے ترتیبی میں کوئی نقص رہ جائے تو اسے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔کسی خالق کے بغیر اتفاقیہ پیدائش بغیر کسی ترتیب، دلیل یا سمت کے لازماً اندھی ہوگی۔جو لوگ خدا تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں جو خالق ہے ان کیلئے اس جامع منصوبہ کی حکمت اور دانائی کو تسلیم کرنے میں بھی کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے کیونکہ انہیں اس تخلیق میں ایک واضح سمت، توازن اور مقصد نظر آتا ہے۔اتنی مہارت سے ترتیب دیئے گئے اس رنگا رنگ اور معطر گلدستے میں کہیں کوئی ایک آدھ کا نٹا بھی موجود ہو تو کیا اسے بدصورت کہا جا سکتا ہے؟ اگر دہریہ کا وہم درست ہو تو معصوم اور دکھی لوگوں کیلئے نجات کا واحد راستہ صرف موت ہے۔لیکن تخلیق کے بارہ میں اگر مومن کا نظریہ درست ہو تو اس صورت میں موت ایک بالکل مختلف انداز میں نجات دہندہ بن جاتی ہے۔ان کیلئے موت ایک نئی زندگی کی ابتداء ہے جو ان مبتلائے آزار معصوم لوگوں پر لامحدود جزا کے دروازے کھول دیتی ہے۔اگر وہ اس جزا کا تصور کر سکتے ہوں جو اس دنیوی زندگی میں پہنچنے والی عارضی اذیت کی تلافی کے طور پر ان کی منتظر ہے تو وہ اذیت کے باوجود مسکراتے ہوئے زندگی بسر کریں۔گویا یہ تکلیف ایک کانٹے کی ہلکی سی چھن کی مانند ہے جو راحت اور خوشی کی ابدی زندگی کے رستے میں انہیں اٹھانا پڑی ہے۔ممکن ہے کہ کچھ لوگ پھر بھی مطمئن نہ ہوں اور مصر ہوں کہ چونکہ نہ کوئی خدا ہے اور نہ ہی موت کے بعد کوئی جزا سزا، اس لئے ان کے نزدیک اس جواب کی کوئی اہمیت نہیں۔اگر ایسا ہے تو اس سوال پر بحث فضول ہے۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ یہ سوال صرف اس صورت میں ہی زیر بحث لایا جا سکتا ہے جب پہلے خدا تعالیٰ کو خالق تسلیم کر لیا جائے۔اخلاقیات اور کسی امر کے اچھا یا برا ہونے کا سوال صرف اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ہستی باری تعالیٰ پر ایمان بھی ہو۔اگر خدا ہے تب ہی مذکورہ بالا طریق سے تلافی ممکن ہے اور اسے ہنس کر ٹالا نہیں جا سکتا۔اور اگر خدا نہیں ہے تو اتفاقی طور پر پہنچنے والی اذیت پر کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔اس صورت میں ہمیں زندگی اور متعلقہ امور کومحض ایک بے معنی، بے سمت اور بے مقصد اتفاقی سانحہ کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔اور دکھ یا اذیت کو قدرت کے ایک ایسے جزولاینفک کے طور پر قبول کرنا ہوگا جس سے مفر نہیں اور انسان کو ہر صورت میں اذیت کے ساتھ زندگی گزارنے کا فن سیکھنا ہوگا۔