الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 163
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 161 زندگی کے اس مرحلہ کا تصور کیجئے جو انسانی علم کے مطابق تین بنیادی اکائیوں پر مشتمل ہے۔یعنی مرکزہ والے بیکٹیریا۔بغیر مرکزہ کے بیکٹیریا اور آگ کی توانائی سے جنم لینے والے پائر و بیکٹیریا۔اس فرضی نظام میں سب کو برابر میسر آنے کی وجہ سے خوراک یا بالفاظ دیگر بقا کیلئے کوئی مقابلہ نہیں ہوگا اور نہ ہی تکلیف کا وجود ہوگا۔نتیجہ اس فرضی نظام میں زندگی ہمیشہ اپنی ابتدائی خام حالت میں ساکت اور جامد رہے گی۔انسانی تخلیق تو اس نقطہ آغاز سے دور کی بات ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کو منتخب کیا جائے جس کا اہم جزو دکھ ہے اور جو زندگی کے ارتقا کے عمل کو مسلسل جاری رکھتا ہے یا تکلیف کے خوف سے اس نظام کو بکلی ترک کر دیا جائے۔چنانچہ حتمی تجزیہ میں ”زندگی یا موت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔اگر حیات کی ابتدائی حالتوں میں کچھ شعور ہوتا تو حیات اس بے معنی مشقت میں زندہ رہنے کی بجائے موت کو ترجیح دیتی۔دکھ کا تعلق سزا اور مکافات کے تصور سے بھی ہے۔حیوانات میں ایک محدود پیمانے پر انتقام لینے کی جبلت مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔یہ جبلت بہت سے زمینی، بحری اور فضائی جانوروں کے رویوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ہاتھی اور بھینس انتقامی جذبہ کی وجہ سے خاصے بدنام ہیں۔حیات کی اس بتدریج ترقی پذیر خصوصیت کا تعلق لازماً قوت فیصلہ کے بتدریج ارتقا سے ہے۔کچھ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ یا تو جبلت کے تحت ہو سکتا ہے یا سوچ سمجھ کر۔تا ہم یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جانوروں کے طرز عمل میں فیصلہ کی صلاحیت کیا کر دار ادا کرتی ہے۔لیکن یہ یقینی بات ہے کہ انسان کے طرز عمل میں اس صلاحیت کا بہت اہم کردار ہے۔یہ فیصلہ عموماً انسان کا اپنا ہوتا ہے کہ آیا وہ نور اور حیات کی طرف حرکت کرے یا ظلمت اور موت کی طرف۔اس لئے اگر انسان کو اپنے اعمال کے نتیجہ میں کوئی انعام ملے یا سزا بھگتنا پڑے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔بعض اوقات لوگ تکلیف تو اٹھاتے ہیں لیکن انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔مگر قدرت میں جزا سزا کا ایک عمومی قانون کارفرما ہے جسے مکافات عمل کہتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ انہیں اپنے کسی دانستہ یا نادانستہ عمل کے نتیجہ میں وجہ معلوم ہوئے بغیر یہ تکلیف اٹھانا پڑی ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر غلطی کی سزا فوری طور پر نہیں ملا کرتی۔بسا اوقات قانون شکنی پر قدرت غیر محسوس طریق پر سزا دیتی ہے۔