الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 132

132 بدھ مت تک ہیں۔خواہ ہم انہیں ہندو سادھو کہیں یا بدھ بھکشور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں خدا کی خاطر رہبانیت یا ترک دنیا کا دعویٰ کرتے ہیں۔اس مفہوم اور تصور کو کسی بھی نام سے پکار میں ان کے روحانی تشخص پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جو کچھ بھی انہیں حاصل ہوا اور جو بھی روشن خیالی ان کے حصہ میں آئی ان میں سے کوئی بھی اپنے موضوعی تجربات کی بنا پر دنیا کا نقشہ تبدیل نہ کر سکا۔حضرت بدھ اور حضرت کرشن کو اس طبقہ میں شمار کرنا ان کی تو ہین ہے۔وہ تو دراصل خدا کے دیگر انبیاء کی طرح انقلاب برپا کرنے والے تھے جن کے روحانی اور اخلاقی انقلاب کے سوتے الہام کے سرچشمہ سے پھوٹے۔انہوں نے جھوٹ اور برائی کے خلاف جہاد کیا اور اپنی زندگی میں انتھک جد و جہد کا وہ علم بلند رکھا جس کی بنیاد محض موضوع نہیں تھی۔ظلمت کے خلاف ان کی یہ جدوجہد اعلانیہ، معروضی اور مسلسل جنگ تھی۔نتیجہ بقائے اصلح کی خاطر ایک عظیم جدوجہد کا آغاز ہوا۔حضرت بدھ اور حضرت کرشن کے حالات زندگی سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔وہ سینہ سپر ہو جانے والے لوگ تھے نہ کہ موت سے بھاگنے والے۔ان کا ایمان وحی الہی کا نتیجہ تھا۔ان کی تعلیمات نے ان کے وجدان کو جنم دیا لیکن وجدان ان کی تعلیمات کا سرچشمہ نہیں تھا۔حضرت بدھ کے عصر حاضر کے بیشتر پیرو سمجھتے ہیں کہ ان کا مذہب محض حکمت یا بدھی ہے جو حضرت بدھ نے مراقبہ کے نتیجہ میں حاصل کی۔ان کا فلسفہ اس بات کا دعویدار ہے کہ یہ سب کچھ حضرت بدھ کے وجدان کا نتیجہ تھا۔وہ لوگ جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں ان کے نزدیک عرفان ایک نفسیاتی تجربہ ہے جس میں انسان اکثر روحانی سرور محسوس کرتا ہے۔اس روحانی کیفیت کے دوران صاحب تجربہ انتہائی سکون محسوس کرتا ہے۔جب یہ وجدانی کیفیت جاتی رہتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اس نے زندگی کا وہ مقصد پا لیا ہو جس کے حصول کے لئے بنی نوع انسان اتنی جدو جہد میں مصروف ہے۔وہ اس نفسیاتی تجربہ کو روحانی نور کے طور پر باعث فخر محسوس کرتے اور مادیت کی غلامی سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔جس طرح یہ تجربہ اپنی بہترین شکل میں بھی نہ تو معروضی حقائق کو بدل سکتا ہے اور نہ ہی برے لوگوں کی اصلاح کر سکتا ہے، اسی طرح یہ نہ تو غیر معلوم حقائق کو معلوم حقائق میں