الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 122
122 بدھ مت کیا گیا ہے۔پالی ٹیکسٹ سوسائٹی لنڈن کی پریذیڈنٹ Mrs۔T۔W۔Rhys Davids نے ان میں سے بعض مکالمات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ Sacred Books of the Buddhists کے عنوان سے شائع شدہ کتاب میں درج ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔اس کی دوسری جلد کا مکالمہ نمبر 13 (Tevigga Sutta) خصوصیت کے ساتھ اس سوال سے متعلق ہے کہ انسان کس طرح خدا تک پہنچ سکتا ہے؟ حضرت بدھ اوّل تو اس بات ہی کو رد فرماتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں کوئی ہندو پنڈت کسی انسان کی خدا کی طرف رہنمائی کر سکتا ہے۔اس کے بعد اس سوال کا مختلف جواب وہ اپنے طور پر دیتے ہیں۔اس مکالمہ کا پس منظر بھی بہت دلچسپ ہے۔کہتے ہیں کہ بہت پہلے برہمنوں کا ایک مشہور گاؤں مناسا کٹا (Manasakata) تھا جو ملک کے ایک بہت ہی خوبصورت علاقے میں دریا کے کنارے واقع تھا اور برہمنوں کے مذہبی نزاع کا مرکز ہونے کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ان میں سے پانچ برہمن جو اپنے اپنے مذہبی مکتبہ فکر کے سر براہ تھے، بہت ممتاز تھے۔اتفاق سے حضرت بدھ نے بھی اپنے بعض مریدوں کے ساتھ اسی دریا کے کنارے پڑاؤ کیا۔ان کی آمد کا سن کر لوگ ان سے ملنے کیلئے آنے لگے تاکہ وہ ان کی تعلیمات خود ان کی زبانی سن کر بصیرت حاصل کر سکیں۔ایک مرتبہ اس گاؤں کے واسیتا (Vasettha) اور بھر دوا گا (Bharadvaga) نامی دو نو جوانوں کے مابین اشنان کے بعد چہل قدمی کے دوران مذہبی عقائد پر بحث چھڑ گئی۔لیکن کوئی ایک بھی دوسرے کو اپنے گورو کی سچائی کا قائل نہ کر سکا۔واسیتا (Vasettha) نے یہ معاملہ حضرت بدھ کے حضور پیش کرنے کا مشورہ دیا۔چنانچہ اس بارہ میں وہ حضرت بدھ سے رہنمائی حاصل کرنے کیلئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔دوران گفتگو بھر دوا گا تو خاموش رہا اور واسیتا نے مسئلہ بیان کیا۔مگر حضرت بدھ نے جواب دینے سے قبل بعض مزید سوال پوچھے۔ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا ویدوں کے کسی عالم نے برہما ( یعنی خدا ) کو ظاہری شکل میں دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ”نہیں“۔پھر حضرت بدھ نے واسیتا سے پوچھا کیا پچھلی سات پشتوں سے کسی برہمن یا اس کے شاگردوں میں سے کسی نے برہما کو دیکھا ہے؟ جواب پھر نفی میں تھا۔پھر