الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 104

104 هندو مت اس کا کیا جواز ہے کہ ایک شخص تو شاہی محلات میں پیدا ہو جبکہ دوسرا کسی قلاش کی کٹیا کے گھپ اندھیروں میں۔یہ وہ اشکال ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کیلئے ایسی متنوع اور گونا گوں تخلیق کے وقت کسی نہ کسی طرح کا جواز ضروری ہو جاتا ہے۔ہندو فلسفہ اس سوال کا یہ جواب دیتا ہے کہ خدا بحیثیت خالق کوئی صوابدیدی فیصلہ نہیں کرتا۔دنیا کے دیگر مذاہب کے برکس رو زمین ہی کو جزا سزا کا مقام سمجھتے ہیں۔اس فلسفہ کے مطابق زمین پر گزاری گئی زندگی کے اعمال کا اثر براہ راست اگلی جونوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔سب سے بڑا دیوتا 'برہما زمین پر زندگی کے ہر عمل پر گہری تنقیدی نگاہ رکھتا ہے۔چنانچہ اس کے مستقبل کا دارومدار اس کے اپنے ہی کرموں پر ہے۔زندگی اور موت ایک ابدی سکیم کے ماتحت نیکی اور جزا اور جرم وسزا کے طور پر باہم منسلک ہیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ خدا جب ایک آزاد روح کو اس کے مسکن سے اٹھا کر زمین پر کسی بھی نوع حیات کے جسم میں قید کرتا ہے تو اسی لمحہ وہ روح بغیر کسی سابقہ کرم کے پہلی دفعہ قید کر دی جاتی ہے۔عدل وانصاف کے اصولوں کی یہ پہلی خلاف ورزی ہے جس کا بقول ان کے خدا مرتکب ہوتا ہے جس کے بعد انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھی کسی گھٹیا ترین جانور کی جون میں ڈال دیا جائے۔نعوذ باللہ۔آئیے ایک بار پھر ویدوں کی تعلیم کے پس منظر میں کرموں کے کردار کا جائزہ لیں۔یہ امر ذہن نشین رہے کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ سکیم ہے جس کے مطابق اس دنیا میں کیا گیا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی، خواہ اچھا ہو یا برا ملحوظ رکھا جاتا ہے۔اعمال کا یہ فرق جزا اور سزا میں کمی بیشی کرنے میں خدا کا مددگار ہوسکتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر جرم پر انسان جانور میں بدل دیا جائے۔مثلاً ایک شخص جو اپنے سابقہ جنم میں بادشاہ تھا ممکن ہے اگلے جنم میں ایک گدائے مفلس کے طور پر پیدا کر دیا جائے۔اسی طرح ایک فقیر کو اگلے جنم میں ایک پرشکوہ بادشاہ بنایا جا سکتا ہے۔اس کا انحصار خدا کی نظر میں کئے گئے پچھلے جنم کے اچھے یا برے اعمال پر ہے۔جیسا کہ پہلے وضاحت کی جاچکی ہے اس ویدک فلسفہ کے مطابق ایک نوع کی دوسری نوع میں تبدیلی کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔کسی جنم میں انسان