الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 76

76 یونانی فلسفه قوانین اسے زہر کا پیالہ پلانا چاہتے ہیں تو ان کے اس فیصلے سے گریز نا انصافی ہی نہیں ناشکری بھی ہوگی۔علاوہ ازیں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس دنیا سے کہیں بہتر دنیا کی طرف نہیں جا رہا ہے۔" 4<< بہت سے دیگر بلند پایہ علماء نے بھی arete کا درست ترجمہ کرنے کے سلسلہ میں تحقیق کی ہے۔ان میں سے ایک بہت نمایاں نام گریگری ولاسٹوز (Gregory Vlastos) کا ہے جو اس خیال کی پر زور تردید کرتا ہے کہ arete کو محض کاریگر کی ایک اصطلاح سمجھا جائے۔وہ اصل یونانی لفظ کے مختلف ممکنہ معانی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب سقراط اس لفظ کو استعمال کرتا ہے تو اس کے نزدیک اس کے معنی لازماً تقویٰ، نیکی اور ہر قسم کی خیر کے ہوتے ہیں۔اس بارہ میں اگر قارئین کے دل میں اب بھی کوئی شبہ باقی ہے تو وہ اس حقیقت پر غور کرنے سے دور ہو سکتا ہے کہ سقراط جب بھی عمومی نظریہ کو زیر بحث لاتا ہے مثلاً جب وہ پروٹے گرس (Protagoras) اور مینو (Meno) کے ذکر میں arete کے سکھائے جانے کے بارہ میں بات کرتا ہے تو وہ دلیل دیئے بغیر یہ تسلیم کرتا ہے کہ arete کے پانچ اجزاء یا مسلّمہ خوبیاں ہیں جو بالاتفاق اعلی اخلاقی اقدار کے بیان کیلئے یونانی اصطلاحات کا حکم رکھتی ہیں۔یعنی Andrea (مردانگی۔جرات) Sophrosyne (اعتدال) Dikaiosyne (انصاف۔تقویٰ ) Hosiotes ( نیکی۔پاکیزگی ) اور Sophia ( عقل و دانش) 5 پس ولا سٹوز کا یہ موقف بہت معقول ہے کہ خود سقراط کے نزدیک لفظ arete کے جو بنیادی معانی ہیں پہلے ان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔Arete کے ان معنوں کا ذکر ایک اور بڑے عالم کرسٹوفر جے ناوے Christopher) (Janaway نے بھی کیا ہے۔چنانچہ وہ کہتا ہے: وو 56 سقراط کے پیش نظر تو اخلاقیات کے مسائل تھے۔بالخصوص اسے انصاف، حکمت، جرات، تقومی اور اعتدال جیسی نیکیوں کے قیام کا شدت سے احساس تھا۔افلاطون نے ابتدائی مکالمات (Dialogues) میں سقراط کی تصویر کشی بھی اسی رنگ میں کی ہے۔اور اعتذار (Apology) میں بھی سقراط کو اپنے آپ کو اسی طرح پیش کرتے ہوئے دکھایا ہے۔