الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 73

الهام ، عقل ، علم اور سچائی گا 73 سقراط کے متعلق ایک بات تو طے ہے کہ اس کا ہر قول وفعل arete ہی تھا۔بایں ہمہ معاشرہ نے اگر اسے اس بنا پر ٹھکرا دیا تھا کہ اس کا نقطہ نظر اخلاقیات سے عاری تھا تو اس سے صرف ایک ہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کے نزدیک arete کا اخلاق سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔گنتھری کی اس الزام تراشی پر جو سراسر بے بنیاد ہے ہم پر زور احتجاج کرتے ہیں۔اہل ایتھنز نے کبھی بھی سقراط پر یہ الزام نہیں لگایا کہ وہ اخلاقیات کو زیر بحث نہیں لاتا۔اس کے برعکس اہل ایتھنز اس کو محض اس وجہ سے جھٹلاتے تھے کہ اس نے اپنی مخصوص قسم کی اخلاقیات پر ضرورت سے زیادہ زور دے کر ایتھنز کے نوجوانوں کے اخلاق تباہ کر دیئے ہیں۔پس ہوا یہ ہے کہ تھری نے یہ کہہ کر کہ arete کا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں، سقراط کو اس کے معلم اخلاق کے مقام سے گرانے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ اس نے نہایت چابک دستی سے تاریخی حقائق کو مسخ کیا ہے۔عملاً ہوا یہ ہے کہ مصنف نے سقراط کی حقیقی شخصیت اور اپنی خود ساختہ فرضی شخصیت کے درمیان اختلاف تناظر کی وجہ سے التباس پیدا کر دیا ہے۔جو شخص بھی اس سقراط سے واقف ہے جس کی عکاسی افلاطون اور اس کے بعض دیگر ہمعصروں نے اپنی تحریروں میں کی ہے وہ مصنف کی ان بے بنیاد قیاس آرائیوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتا۔یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ اہل ایتھنز کو اشتعال دلانے والی بات وہ نہیں تھی جس کا مصنف دھوئی کرتا ہے۔سقراط نے تو توحید کا پرچار کیا اور بداخلاقی کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔یہی سقراط کا مشن تھا اور یہی اس کے نزدیک arete کے معنی تھے۔چنانچہ arete - arete کے معانی کو سمجھنے کیلئے ان حقائق کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔گتھری کے برعکس بہت سے دیگر علماء نے arete کا ایک ترجمہ اپنے تمام تر مفاہیم کے ساتھ نیکی یا خیر کیا ہے جو بالکل درست ہے۔جب سقراط چھوٹی موٹی اشیاء مثلاً صنعت و حرفت کے آلات اور ان کے طریق کار کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا ایک معین مقصد ہے جس کی تکمیل از حد ضروری ہے تو درحقیقت وہ تشبیہات اور استعارات میں انسانوں کی بات کر رہا ہے۔ورنہ وہ ہنر مندوں اور کاریگروں کے ہنر اور فن سے متعلق علم کی نفی نہ کرتا اور نہ ہی ان کو ان کی جہالت پر برا بھلا کہتا۔سقراط در اصل کہہ یہ رہا ہے کہ لوگ آسمانی علوم کی حقیقت سے نا آشنا ہیں حالانکہ یہ تمام انسانی مشاغل کی گہرائیوں میں موجود ہیں۔اس کے باوجود لوگ اس سے غافل