الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 41

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 41 بہت سی نسلیں ان سے متاثر ہوئیں جن کے فلسفہ کو سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ صرف ان نتائج کو معتبر سمجھنا چاہئے جو تجرباتی مشاہدات سے حاصل ہوں اور جنہیں بار بار دہرا کر ثابت کیا جا سکے۔ان کو یقین تھا کہ خالص عقل اور مشاہدہ نے قابل قبول نظریات کو جنم دیا ہے یعنی ایسے نظریات جنہیں سائنسی تجربات کے ذریعہ دہرایا جا سکے اور جن میں کوئی تضاد موجود نہ ہو۔سائنس کی اس سے بہتر تعریف متصور نہیں ہو سکتی۔ہیوم کے بعد عمانویل کانٹ Immanuel Kant (1804-1724) آیا جس کا فلسفہ کافی حد تک ہیوم کے Empirical یعنی مظہری یا تجربی فلسفہ کا مرہون منت ہے۔وہ agnostic یعنی لا ادری تو تھا ہی مگر اتنا دانشمند ضرور تھا کہ اس نے اخلاقیات کی لابدیت کو محسوس کر لیا تھا۔وہ شاید پہلا شخص تھا جس نے اصول اخلاق کو صرف عقل سے اخذ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔اس کے نزدیک حقیقت کے دو عالم ہیں۔عالم مظاہر یا عالم صفات اور عالم ذات۔اسے یقین تھا کہ سائنسی تحقیق عالم صفات سے باہر نہیں جا سکتی۔لہذا اس نے اس امر کو خارج از امکان قرار دیا کہ خدا تعالیٰ کا وجود سائنسی تحقیق کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔عموماً اس کے فلسفہ کو Transcendental Idealism یا ماورائی تصوریت کا نام دیا جاتا ہے اسی فلسفہ نے آگے چل کر ہیگل کی Absolute Idealism یعنی مطلق تصوریت کے فلسفہ کو جنم دیا۔اس فلسفہ کے اس زرخیز دور میں بہت سی نئی اصطلاحات وضع ہوئیں۔مثلاً منطقی ایجابیت ہے۔(Logical Positivism)، وجودیت (Existentialism) اور معروضیت (Objectivism) وغیرہ۔لیکن افلاطون اور ارسطو کے جو ( دونوں کے دونوں) بلا شرکت غیرے رہتی دنیا تک اپنی عظمت کا لوہا منواتے رہیں گے ، نظام ہائے فکر میں کسی نئے ڈرامائی باب کا اضافہ نہ ہو سکا حتی کہ جدلی مادیت اور سائنسی سوشلزم کی معروف اور چست لفظیات میں بھی کوئی نئی یا اچھوتی بات نہیں تھی۔دراصل یہ وہی مضمون تھے جو پہلے بھی ارسطو کی تصانیف میں کھل کر زیر بحث آچکے تھے۔لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یورپ کے فلسفی اپنے یونانی اساتذہ کے ساتھ ساتھ اندلس اور بغداد کے مسلمان پیش روؤں کے کچھ کم مرہون منت نہ تھے۔اس دور میں ہیگل کا Absolute idealism یعنی مطلق تصوریت کا نظریہ ہر طرف چھایا ہوا تھا۔لیکن اکثر یورپین اس بات کو نہ سمجھ