الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 652
آخر پر ہم انبیاء کے علاوہ دوسروں پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر کرتے ہیں۔اس نظریہ کو تسلیم کرنا حد درجہ مشکل ہے کہ نبوت کے خاتمہ کے ساتھ عام آدمی پر نازل ہونے والی وحی بھی بند ہو جائے۔خدا تعالیٰ پر غیر متزلزل اور مستحکم ایمان کیلئے محض عقلی تحقیق ہی کافی نہیں بلکہ وحی الہی بھی ضروری ہے۔خدائے علیم و خبیر اور قادر مطلق پر ازدیاد ایمان کیلئے وحی الہی ہمیشہ بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔وحی صرف نبوت کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تو جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے مابین تعلق اور رابطہ کا ذریعہ ہے، وہاں یہ ایک عالمگیر انسانی تجربہ بھی ہے۔اس لئے اس کا انکار در حقیقت ہر دور کے کروڑوں بندگانِ خدا کی شہادت کا انکار ہے۔وحی الہی سے بالعموم ان بندگانِ خدا کو سرفراز کیا جاتا ہے جو اپنے آپ کو خالصہ رضائے باری تعالیٰ کے تابع کر لیتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں یا اس کے وجود پر مہم سا ایمان رکھتے ہیں، انہیں شاذ و نادر ہی وحی و الہام سے نوازا جاتا ہے۔یہی اصول حد سے زیادہ ایسے گناہگاروں پر اطلاق پاتا ہے جو ہمہ وقت دنیوی فوائد اور مادی لذات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔تا ہم ایسے لوگ بھی خدا تعالیٰ کے اس فضل سے کلیہ محروم نہیں رکھے جاتے۔اگر خدا کسی وقت کسی کو بچے خواب، مکاشفات اور مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرنا چاہے تو کون ہے جو اس کو روک سکے۔وحی الہی ہمیشہ وحی پانے والے یعنی مکلہم کے تقوی وطہارت کی دلیل نہیں ہوتی۔بعض دفعہ وحی الہی کا نزول اس لئے بھی ہوتا ہے تا بنی نوع انسان کو یاد دلایا جائے کہ اللہ تعالیٰ واقعی موجود ہے اور وہ جس سے چاہتا ہے کلام فرماتا ہے۔نمونے کا ایسا کلام کسی مذہب، ملک یا زمانہ سے مخصوص نہیں۔یہ فیض عام ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کے وجود اور وحی الہی کے سلسلہ پر سرے سے ایمان ہی اٹھ جاتا۔ایسے نمونہ کے الہامات تو اس اچانک غیر متوقع بارش کے چھینٹوں کی طرح ہیں جو کسی خشک اور بے آب و گیاہ صحرا میں زندگی بخش نخلستانوں کو پیدا کر دیا کرتے ہیں۔621