الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 582
طاعون کا نشان آج کی دنیا محض سو سال پہلے کی دنیا سے یکسر مختلف ہے۔اس وقت ابھی فضائی دور کا آغاز نہیں ہوا تھا۔رائٹ (Wright) بر اور ان کی ناتجربہ کار پرواز کے ادھورے خواب کی تعمیل اور پہاڑوں کی طرح بلند و بالا سمندری جہاز اور آبدوزوں کی تیاری میں ابھی کچھ دیر تھی۔تاہم فضا میں طلوع سحر کے آثار بتا رہے تھے کہ سائنسی ایجادات کا انقلاب انگیز اور خیرہ کر دینے والا دن طلوع وو ہونے کو ہے۔مذاہب کی دنیا میں بھی بیداری کے آثار نمایاں تھے۔ہر مذہب ایک عالمگیر ربانی مصلح کی انتظار میں تھا۔وہ کون ہو گا اور اس کا ظہور کہاں ہو گا۔“ یہ سوال زبان زد عام تھا۔دعویٰ اور جواب دعویٰ کی وجہ سے فضا ایک تناؤ کا شکار تھی۔لیکن سب سے زیادہ شدت کے ساتھ یہ موضوع برصغیر میں زیر بحث تھا۔مسلمان اور عیسائی دونوں ہی منتظر تھے کہ مسیح کا ظہور ان میں ہوگا۔اگر ہنود سرگرمی سے حضرت کرشن کی راہ تک رہے تھے تو بدھ کے پیروکار حضرت بدھ کے دوبارہ ظہور کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔مذاہب کی اس کشمکش کے دور میں ایک گمنام بستی سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی پر شکوت آواز بلند ہوئی۔آپ نے دیگر تمام مذاہب پر اسلام کی برتری کے دعوئی سے مذہبی دنیا میں ایک ہلچل پیدا کر دی۔آپ نے قومی اور زبردست عقلی اور نقلی دلائل سے دیگر مذاہب کے عمائدین کو اس انداز میں مقابلہ کی دعوت دی کہ وہ متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ہر طرف دھوم مچ گئی کہ اسلام کی تائید میں ایک نیا پہلوان میدان میں اترا ہے۔اس وقت تک دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں اسلام اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں تھا۔لیکن اس نئے پہلوان کے میدان میں اترتے ہی مسلمانان برصغیر خوشی اور امید کے ملے جلے 551