الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 559

530 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم بگڑا۔تاہم حالات آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر عالمگیر انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ وہ انقلاب ہے جس کی قرآن کریم میں پیشگوئی کی گئی ہے اور جو اسلام کا آخری انقلاب ثابت ہوگا۔مبادا اسے مبالغہ آمیز اور غیر مصدقہ بیان سمجھا جائے، اس لئے ہم اگلے باب میں ایسے شکوک و شبہات کے ازالہ کیلئے بعض ٹھوس شہادتیں پیش کریں گے۔آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کی متعدد آیات کی روشنی میں ہونے والے عالمی تصادم کے انجام کے متعلق واضح پیشگوئی فرمائی ہے۔یہ پیشگوئی آپ نے دجال کے خروج کے حوالہ سے فرمائی ہے۔لیکن یہ واضح رہے کہ دجال کا وہ تصور جو آنحضرت ﷺ کی احادیث سے ابھرتا ہے وہ فی الحقیقت اتنا مبہم نہیں ہے جتنا کہ بظاہر دکھائی دیتا ہے۔احادیث دجال کا ذکر اس رنگ میں کرتی ہیں گویا اس میں طاقتور اقوام کی عظمت و جبروت جمع ہو جائے گی۔در حقیقت آنحضرت علیہ نے آخری زمانہ کو دجال کا زمانہ قرار دیا ہے جس کی تمام علامات دقبال کے حوالہ سے بیان کی گئی ہیں۔اس کی شناخت کی علامات میں سے ایک کا تعلق خاص طور پر ایسے جدید ذرائع نقل و حمل سے ہے جن کا انسان کو اس سے پہلے کسی قسم کا کوئی تجربہ نہ تھا۔دجال کے تفصیلی ذکر سے اس بات کا ذرہ بھر شانہ نہیں رہتا کہ یہ ساری پیشگوئیاں ایک ہی شخص کے بارہ میں نہیں ہیں۔آنحضرت میانے نے دقبال کی جو اصطلاح بیان فرمائی ہے وہ تمثیلی رنگ رکھتی ہے۔یعنی دجال اپنے زمانہ کی عظیم طاقتوں کا مظہر ہو گا اور اس کے کارنامے دراصل ترقی یافتہ اور طاقتور عیسائی اقوام کے کارنامے ہوں گے لیکن ان کا غلبہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔اسی طرح بڑی تحدی سے یہ پیشگوئی بھی کی گئی ہے کہ دجال جو ان اقوام کا مظہر ہے، بالآخر زوال پذیر ہو گا۔مادیت کے کھنڈرات سے ایک دفعہ پھر اسلام کا آفتاب طلوع ہوگا۔وہ اپنی چمک دکھائے گا اور شکوک و شبہات کے بادل چھٹ جائیں گے جو صدیوں سے اس پر چھائے ہوئے تھے۔اب ہم احادیث نبویہ کی روشنی میں انقلابی ذرائع آمد و رفت کا دوبارہ ذکر کرتے ہیں لیکن جہاں تک دجال کی بقیہ علامات کا تعلق ہے خاص طور پر جو مذہبی اہمیت کی حامل ہیں ، ان کی تفصیل ایک الگ باب میں بیان کی جائے گی۔احادیث میں بری، بحری اور فضائی ذرائع آمد و رفت کو بلا استثنا ایسے انداز میں بیان کیا گیا