الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 545
518 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم دیئے گئے۔ڈان جان کا نعرہ تھا کہ " کوئی بچ کر نکلنے نہ پائے۔چنانچہ مردوزن اور بچے اس کے حکم پر اس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیے گئے۔الفراس (Alpuxarras) کے دیہات انسانی مذبح خانوں میں تبدیل کر دیئے گئے۔8 "بہت سے بد قسمت جلا وطن لوگ بھوک، تکان اور موسم کی شدت کے باعث رستہ ہی میں ہلاک ہو گئے۔اور جو گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح افریقہ پہنچ سکے وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ ان کے پاس زرعی زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا تک نہیں تھا۔9 9€€ بیان کیا جاتا ہے کہ سقوط غرناطہ سے لے کر سترھویں صدی کی پہلی دہائی تک کم از کم تیس لاکھ ہسپانوی مسلمان جلا وطن کئے گئے۔ایک عرب مورخ اس آخری المیہ کا بڑے درد ناک انداز میں یوں ذکر کرتا ہے : " چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ مسلمان فتح یاب ہوں لہذا وہ مغلوب ہوئے اور انہیں ہر جگہ تہ تیغ کیا گیا یہاں تک کہ انہیں سرزمین اندلس سے نکال باہر کیا گیا۔مسلمانوں پر یہ تباہی 1017 ہجری میں آئی۔یقینا زمین اور حکومت خدا ہی کی ملکیت ہے وہ 10° جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔" مسلمانوں کو جلا وطن کر دیا گیا اور کچھ عرصہ کیلئے عیسائی سین اس چاند کی طرح چمکنے لگا جس کی روشنی مستعار ہو۔لیکن جلد ہی وہ گہنا گیا اور آج تک اسی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔11 چنانچہ Stanley Lane-Poole اپنی کتاب The Moors in Spain" میں یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ سپین میں مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کا سورج جو 1492 ء میں غروب ہوا، ایسی تاریکی چھوڑ گیا جس نے سپین کے آسمان سے اسلام کی روشنی کو انگلی دوصدیوں میں بالکل ختم کر کے اسے گھپ اندھیرے میں دھکیل دیا۔اسی طرح مسلم تہذیب نے سپین میں جس سیکولر روشن خیالی (Secular Enlightenment) کو جنم دیا تھا وہ بھی اس کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی۔اس طرح 1492ء کے سال نے بیک وقت دو دروازے کھولے۔ایک دروازہ سے دنیا میں عیسائیت کا مستقبل بڑی شان و شوکت سے داخل ہوا