الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 501

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 475 کاش پروفیسر ڈاکنز اپنے ہمہ گیر نظریہ کا اطلاق اپنے ذہن کے خیالی اور فرضی قصوں پر کرنے کی بجائے فطرت کے ان اسرار کی حقیقت کھولنے پر کرتے جو انہوں نے نہایت عمدگی سے پیش کئے ہیں۔ضمناً ہم ان کی توجہ انہیں کی کتاب کے صفحہ 61 پر دیئے گئے خاکہ نمبر 5 کی طرف مبذول کراتے ہیں جسے انہوں نے رفتہ رفتہ پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے نظریہ کی تائید میں پیش کیا ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ وہاں دیئے گئے سترہ خاکوں میں سے سویلوٹیل (swallowtail) سے شروع کر کے ہر خا کہ دوسرے سے مشابہ ہے۔یہ تو بیچارے کمپیوٹرکو عمداً دھوکہ دینے والی بات ہے کیونکہ کمپیوٹر تو بہر حال اپنے مالک کے حکم کے تابع ہے۔ان خاکوں کو بناتے وقت جینز کا جو تصور کمپیوٹرکو مہیا کیا گیا تھا وہ ہمیشہ ایک معمہ رہے گا۔بات دراصل یہ ہے کہ جینز کے کردار کے بارہ میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی جیز کا لکیروں اور خاکوں کی دو جہتی دنیا سے کوئی تعلق ہے۔جینز کی دنیا انسانوں کی بنائی ہوئی دنیا سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جس میں نسلاً بعد نسل انسانی دماغ اعداد وشمار میں تصرفات کرتا رہتا ہے۔لیکن جیز کا اپنا کوئی ذہن نہیں ہوتا۔مزید یہ کہ یہ اعداد و شمار کمپیوٹر چلانے والے ایک ایسے ذہن کی پیداوار ہیں جو ہر گز یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ وہ جینز کی دنیا کی تمام پیچیدگیوں سے واقف ہے۔جو بچگانہ خاکے ان کے کمپیوٹر نے بنائے ہیں وہ آسانی سے کوئی چھوٹا بچہ بھی کاغذ پر بنا سکتا ہے اور یہ خاکے فہم و ادراک اور حقیقت سے اتنے ہی دور ہوں گے جتنے ان کے کمپیوٹر کے بنائے ہوئے خاکے۔کیا جینز کی تخلیق ایسی ہی ہوتی ہے؟ جینز ذہن نہ رکھنے کے باوجود جو پیچیدہ کام سرانجام دیتے ہیں وہ عقل سے عاری کوئی چیز نہیں کر سکتی۔ان کے طریق کار سے یوں لگتا ہے جیسے وہ نہایت ترقی یافتہ ذہن کے مالک ہوں اور اپنے انتہائی پیچیدہ فیصلوں کو نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔کمپیوٹر کے بنائے ہوئے ان خاکوں اور جاندار اشیا کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔لیکن اگر لحظہ بھر کیلئے فرض کریں کہ یہ ماڈل واقعی درست ہے تو ان سترہ خاکوں میں سے کوئی ایک خاکہ خلیات کی افزائش یا جیز کی کسی اچانک تبدیلی کی وجہ سے ان میں سے کسی بھی دوسری شکل کا روپ دھار سکتا ہے۔جو تمھینے پروفیسر ڈاکٹر نے لگائے ہیں اگر واقعی درست ہوتے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ سویلوٹیل (swallowtail) سے ایک مہذب آدمی پیدا ہو جاتا اور اس سے بچھو جنم لے لیتا۔اسی