الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 488

466 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق کہ وہ اپنے نظریات کا اطلاق حقیقی زندگی پر نہیں کرتے۔اگر وہ مذکورہ بالا عجائبات قدرت کا ان کے نہایت پیچیدہ نظام حیات کے حوالہ سے مطالعہ کرتے تو یہ امر کہیں زیادہ معقول اور قابل قبول ہوتا۔اس صورت میں انہیں متحجرات کے ریکارڈ (fossil record) یا ان سے بھی قبل پائے جانے والے جانوروں کی کڑیاں تلاش کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ہم انہیں اس مشکل کام کی زحمت تو نہیں دینا چاہتے لیکن ہمارا ان سے صرف یہ مطالبہ ہے کہ وہ اوپر بیان کئے گئے آٹھ زندہ عجائبات اور ان کے حیرت انگیز کاموں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔انہیں ڈارون کے نظریہ ارتقا کے اندھے اصولوں کی روشنی میں یہ بات ثابت کرنی چاہئے کہ ان جانوروں کے اتنے پیچیدہ اعضاء آخر کیونکر باہم مربوط ہیں؟ بایں ہمہ اس کے بعد بھی ابھی بہت سا توجہ طلب کام باقی ہے۔ہر عضو کا تفصیلی جائزہ لینا ہو گا۔کیونکہ ہر عضومزید چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہے جن میں سے ہر جزو کسی بھی عضو کی تشکیل میں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کر رہا ہے۔آخر میں سب سے اہم حل طلب مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ ان سب اشیاء کی تشکیل کے لئے جو مادہ درکار تھا وہ کہاں سے دستیاب ہوا اور اسے بلا مقصد کس نے پیدا کیا اور بغیر کسی موزوں کارخانے کے یہ تیار کیسے ہو گیا؟ اگر فی الحقیقت ایسا کوئی پیچیدہ کارخانہ موجود ہے تو اسے بنانے کا اتنا گہرا اور تفصیلی علم رکھنے والا کون ہے؟ ایسے کارخانے بلا روک ٹوک تیز ہواؤں اور بحری طوفانوں کے باوجود آخر قائم کیسے رہے۔کس طرح اس مادہ نے بوقت ضرورت خود کو اس خدمت کیلئے پیش کر دیا؟ یہ سب سوال بڑے واضح اور حقیقت پسندانہ ہیں جن کا جواب پروفیسر ڈاکنز کے ذمہ ہے۔انہیں زندگی کے اسرار و رموز کو منطقی استدلال سے ثابت کرنا ہو گا جو بچے ہونے کے باوجود کسی بھی فرضی قصہ سے کہیں زیادہ دلچسپ ہیں۔ہمارا مشورہ یہ ہے کہ پروفیسر موصوف ان اسرار کو حیات کے حوالہ ہی سے سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کریں۔اس کیلئے انہیں الیکٹرک ایل (eel) سے کام شروع کرنا چاہئے جس کا ہم نے آٹھویں عجوبہ کے طور پر مختصر اذ کر کیا ہے۔یہ مچھلی راستہ تلاش کرنے کیلئے اپنے برقی میدان (electric field) کو استعمال میں لاتی ہے۔اس کے چاروں طرف بجلی کی لہروں کا جال بچھا ہوتا ہے۔کسی چیز سے سامنا ہونے کی صورت میں اس کے گرد موجود کرنٹ میں ایسی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو اس کے وولٹیج کو بدل کر سمت کی