الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 450

436 عضویاتی نظام اور ارتقا کا اتفاقی نتیجہ ہے جسے انتخاب طبعی نے بغیر کسی تحقیقی کردار کے بقا کیلئے چن لیا ہے۔یہ امر انسانی قیم سے بالا ہے کہ ماہرین حیاتیات تخلیقی نظام کے حقائق اور اپنے لا یعنی نظریات کے بابھی تضاد سے آخر مطمئن کیسے ہیں۔چمگادڑ کے کان کی ساخت کی تشریح ایک پیچیدہ مضمون ہے اور دریا کو کوزہ میں بند کرنے کے مترادف ہے۔اگر چہ ان کے وسطی اور اندرونی کانوں کی ساخت عمومی طور پر انسانی کان سے ملتی جلتی ہے لیکن ان میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں کا خاصہ ہیں اور جو ان کی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔اس سلسلہ میں کیڑے مکوڑے کھانے والی چمگادڑوں کے کان خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ان کا صوتی لہروں کا جدید ترین نظام (sonar system) اتنا پیچیدہ اور باریک ہے کہ ماہر سائنسدانوں کے تیار کردہ جدید ترین صوتی نظام بھی اس کے سامنے پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ چمگادڑیں گہری تاریکی میں بھی حیران کن حد تک تیز فتاری سے پرواز کرتی ہیں اور ان کے صوتی ریشے (vocal cords) اور کان کے receptors ماحول سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔کیڑے کھانے والی یہ چمگادڑ حیرت انگیز تیز رفتاری سے آواز نکالتی ہے اور اس آواز کی بیچ (pitch) اتنی بلند ہوتی ہے کہ اگر ایک نہایت عمدہ حفاظتی نظام موجود نہ ہو تو یہ آواز اس کے اپنے کانوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔یہ مسئلہ درمیانی کان میں موجود stapedius muscle سے ملحق وسطی کان کی تین چھوٹی ہڈیوں سندانی مطرقہ (incus-malleus) اور عظم رکاب ( stapes ) کی تخلیق سے حل ہو جاتا ہے جو صوتی لہروں کو اندرونی کان میں منتقل کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ٹک ٹک کی ہر آواز پر جو چمگادڑ نکالتی ہے یہ عضلہ کان کے پردہ سے منسلک ہڈی ( stapes ) کو ایک طرف دھکیل دیتا ہے۔آواز براہ راست اندرونی کان تک نہیں پہنچ پاتی۔آواز کے تسلسل اور رابطہ میں وقفہ یعنی جوڑ توڑ (make and break ) ایک ایسا نظام ہے جو اونچی فریکوئنسی کے باوجود کبھی معطل نہیں ہوتا۔ایسی چمگادڑیں ایک سیکنڈ میں دوسو سے زائد مرتبہ یہ آواز نکالتی ہیں اور یہ عضلہ ان تیز تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔جب یہ آواز کسی ٹھوس چیز سے ٹکرا کر واپس آتی ہے تو اس ہڈی کا کان کے پردہ سے رابطہ بحال ہو جاتا ہے اور اس طرح چمگادڑ کی سماعت سے باوجود بیشمار دفعہ رابطہ منقطع نتیجه