الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 411

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 399 بڑا مجو بہ ہے۔یہ قدرت کی صناعی کا شاہکار ہے۔مچھر کے نظام انہضام کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ نظام کسی ایسی اندھی قوت کی پیداوار نہیں ہے جس نے ارتقائے حیات کی تشکیل کی ہو۔مچھر کے ڈنک کا سرسری مطالعہ بھی اس شبہ کے ازالہ کیلئے کافی ہے کہ یہ انتخاب طبعی کے نتیجہ میں مادہ مچھر کے منہ کے مختلف حصے mandible C maxilla labrum-epipharynx mandibles maxillae hypopharynx labium labellum دس لاکھ سال یا اس سے بھی زائد عرصہ میں تخلیق ہوا ہو گا۔ایک بالغ مادہ مچھر کا ڈنک جو جسم میں سوراخ کرنے اور خون چوسنے کا آلہ ہے چھ لمبوترے حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کے اوپر ایک لچکدار خول بھی موجود ہوتا ہے۔یہ چھ حصے دندانہ دار آلات (mandibles) پر مشتمل ہوتے ہیں جو میزبان کی جلد کو چھیدنے کے کام آتے ہیں۔ڈنک کے اندر بند مینڈیبل کے یہ بلیڈ نما سرے اس وقت باہر نکلتے ہیں جب مچھر کو اپنی خوراک کے لئے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔صرف اسی صورت میں ہی یہ بلیڈ بیرونی ٹیوب کے ذریعہ باہر نکل کر جلد میں تیزی سے سوراخ کرتے ہیں۔دوسرا حصہ لیبرم اپنی فیرنکس (Labrum epipharynx) ہے جسے خوراک کی نالی کہا جاتا ہے اور کاٹنے کے عمل کے دوران یہ ایک مکمل نالی بن جاتی ہے اور خون اس کے ذریعہ اندر کھینچا جاتا ہے۔جب بھی مچھر کا تھا ہے تو اس کا لعاب دہن (Saliva) ہائپو فی کس (Hypopharynx) کے ذریعہ اس زخم میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔