الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 402 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 402

390 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح Sundew plant کی ہی مثال لیجئے جو ایک متعفن جو ہڑ کے کنارے خوب پنپ رہا ہے اور جو ہڑ کو کراہت سے دیکھ رہا ہے۔انتہائی نا موافق ماحول کے باعث کوئی پودا بھی یہاں زندہ نہیں رہ سکتا۔اگر Sundow کے پاس دماغ اور آنکھیں ہوتیں تو وہ اس منظر کو دیکھ کر عین ممکن تھا کہ خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا بشر طیکہ اس کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے پیوست نہ ہوتیں۔لیکن ماہرین حیاتیات کا نظریہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ان کے نزدیک جوہڑ کے کنارے اگنے والے اس خودرو Sundew نے fly-trap کی شکل اختیار کر لی جواب اس نامساعد ماحول میں بغیر کسی رکاوٹ کے خوب پھول پھل رہا ہے۔اگر یہ قبل ازیں ارتقا کے مزعومہ عمل سے گزر نہ چکا ہوتا تو نئے چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے اس کا زندہ رہنا ہی بعید از قیاس تھا۔یہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ جب خشک زمین میں اس کی موجودگی کے دوران ہی تمام ضروری تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہوتیں۔یہ پودا اس ماحول میں ایک لمحہ کیلئے بھی زندہ نہیں رہ سکتا تھا جب تک اس کی قلب ماہیت کا عمل پہلے ہی سے مکمل نہ ہو چکا ہوتا۔پر وہ معمہ ہے جس سے سائنسدان دو چار ہیں۔اور اس کی عقلی اور منطقی توجیہ ان کے ذمہ ہے۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل دو اہم نکات کا ذکر ضروری ہے۔(1) سائنسدان جس Sundew کو Venus fly-trap کا جد امجد قرار دیتے ہیں بجائے خود ایک معمہ ہے جس کی ارتقائی تاریخ کا عام سبز حیات سے دور کا تعلق بھی دکھائی نہیں دیتا۔(ب) Venus fly-trap کی تخلیق کیلئے ضروری تھا کہ وہ بغیر کسی ارتقائی دباؤ کے اپنی تمامتر جزئیات کے ساتھ جو ہر سے باہر خشک مٹی پر حتمی شکل اختیار کر چکا ہوتا۔اس معاملہ کو یہیں چھوڑتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ ماہرین حیاتیات اس بحث کو یہاں سے آگے بڑھائیں گے۔ہمیں ان کی توجیہہ کا شدت سے انتظار رہے گا۔چونکہ Venus fly-trap کا معاملہ انتہائی پیچیدگی اور باریکی سے تشکیل دیا گیا ہے اور یہ ایسے برقی نظام سے لیس ہے جو ماہر سائنسدانوں کی سمجھ سے بھی بالا ہے اس لئے ہم نے اسے خصوصی طور پر نمایاں کیا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ Venus fly-trap حتمی یعنی موجودہ شکل میں اپنے مزعومہ آبا ؤ اجداد کی جسمانی ساخت سے قطعاً مختلف ہے اس لئے ممکن ہے وہ