الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 388
380 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح کی صلاحیت بھی کم ہوتی۔ارتقا میں کارفرما تخلیقی عوامل نے قطب شمالی کے ماحول میں آخر ایک ہی راستہ کیوں چنا جس کے نتیجہ میں انتخاب طبعی کا سارا عمل بیکار ہو کر رہ گیا کیونکہ اس کے لئے انتخاب کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہ رہی۔علاوہ ازیں حادثاتی طور پر بعض ایسے برفانی ریچھ بھی پیدا ہونے چاہئیں تھے جنہیں سیل کے گوشت کا ذائقہ بالکل پسند نہ ہوتا اور انہیں اس سے اس حد تک کراہت ہوتی کہ یہ اس کے ایک بھی لقمہ کھانے پر بھوکا رہنے کو ترجیح دیتے۔یعنی سیل کے گوشت پر نگاہ پڑتے ہی وہ قے کر دیتے اور گھنٹوں تک متلی کا شکار رہتے۔اور اگر ان میں سے بعض تیرنے کے لحاظ سے نکھے اور دوڑنے میں ست رفتار ہوتے تب بھی تعجب کی کوئی بات نہ ہوتی۔اگر فی الحقیقت ایسا ہوتا تو ڈارون کے حامی ماہرین حیاتیات ہمیں یہ باور کرانے میں کسی حد تک حق بجانب ہوتے کہ اتفاقی تخلیق ہی اس علاقہ میں ارتقائی عوامل کی ذمہ دار ہے۔نتیجہ بقائے اصلح “ اور ” انتخاب طبعی کے لابدی قانون کے باعث برفانی ریچھوں کی غیر ضروری اور ناموافق اقسام ناپید ہو جاتیں اور اس طرح برفانی ریچھ کی موجودہ شکل ہی بقا کی اہل ٹھہرتی۔لیکن وہ تمام برفانی ریچھ جنہیں 'بقائے اصلح کے اصول کے تحت معدوم ہونا پڑا آخر کہاں غائب ہو گئے ؟ ہم یہاں کسی گرم علاقے کے ماحول کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ ہم قطب شمالی کے یخ بستہ ماحول کی بات کر رہے ہیں۔ایسے ماحول میں معدوم ہونے والے برفانی ریچھوں میں سے کم از کم بعض کی لاشیں تو برف میں مدفون ہو جانے کے باعث صحیح حالت میں محفوظ ہونی چاہئیں تھیں۔یادر ہے کہ لاکھوں سال قبل پائے جانے والے بعض جانور قطب شمالی کے منجمد علاقہ میں محفوظ حالت میں مدفون پائے گئے یہاں تک کہ ان کا گوشت بھی کھانے کے قابل تھا گویا انہیں کل ہی دفن کیا گیا ہو۔حال ہی میں اسی طرح کا ایک اور واقعہ دیکھنے میں آیا ہے جب سائبیریا میں ایک دیو ہیکل ہاتھی دریافت ہوا۔غیر قطبی علاقوں میں بھی جہاں ایسا ماحول نہیں پایا جاتا اسی طرح کی اتفاقی خلیاتی تبدیلیاں وقوع پذیر ہونی چاہئیں تھیں جو جانوروں کی انواع میں تنوع کا باعث بنتیں اور ذخیرہ قدرت میں ایسی انواع کے کچھ نہ کچھ تو مستحجرات کے آثار ملتے۔