الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 11

فرداور معاشرہ آزادی ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے۔چنانچہ انسان بھی اس قاعدہ سے مستقلی نہیں۔آزادی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔انسانیت آزادی سے عبارت ہے۔آزادی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔اس کا تانا بانا آزادی ہی سے بنا ہوا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود انسان کے تمام خود ساختہ ادارے آزادی ہی کے خلاف مصروف عمل نظر آتے ہیں۔روایت، رواج اور قانون کی عہد بعہد ترقی کا بغور مطالعہ اس دعویٰ کی تصدیق کیلئے کافی ثابت ہوگا۔ریاست کے ارتقا کا اگر غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو غلامی کی طرف یہ ایک منظم اور مرحلہ وار سفر دکھائی دیتا ہے۔اس گتھی کو سلجھانے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے آزادی سے غلامی کی جانب اس تدریجی سفر کے اسباب کا تعین کر لیا جائے۔سب سے پہلے یہ امر ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ انسان طبعاً اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر ہی معاشرہ کی حاکمیت تسلیم کرتا ہے۔بصورت دیگر اسے جبر سے ہی اطاعت پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔لیکن گروهی زندگی صرف انسان ہی سے مخصوص نہیں ہے۔اگر عالم حیوانات کا نچلی سطح سے اوپر کی سطح تک بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آغاز میں تو ایک گونہ ابتری کی کیفیت موجود ہے لیکن جوں جوں حیات کی اعلیٰ سطح کی طرف سفر کریں تو بتدریج ہمیں زیادہ مظلم، مرتب اور مرکزیت کی طرف مائل نظامِ حیات سے واسطہ پڑتا ہے۔کبھی کبھی یہ رجحان بھی ہمارے مشاہدہ میں آتا ہے جیسے کچھ جانوروں نے ضرورت کے تحت بقائے باہمی کی خاطر اکٹھا رہنا سیکھ لیا ہو۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جاندار مخلوق کی ایسی انواع بھی ہیں جن کا ارتقائی لحاظ سے تو مرتبہ اتنا بلند نہیں لیکن ان کی جبلت اور سرشت میں معاشرتی رکھ رکھاؤ اور نظم وضبط کا ایک عمدہ نمونہ پایا جاتا ہے۔اگر چہ ان کے اتنے منظم اور منضبط معاشرہ میں کسی تدریجی ارتقا کے آثار نظر نہیں آتے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے یہ معاشرہ اپنی آخری 11