الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 7
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 7 قابل اعتماد ہے؟ جب ہم عقل انسانی کی تفہیم کی اس منزل پر پہنچتے ہیں تو بہت سے پیچیدہ سوال سر اٹھانے لگتے ہیں۔مثلاً ہم جانتے ہیں کہ انسانی ذہن کے اخذ کردہ نتائج میں رد و بدل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جس بات کو ایک عہد میں معقول خیال کیا جائے ضروری نہیں کہ کسی اور عہد میں بھی اسے بعینہ قابل قبول سمجھا جائے۔اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمل ارتقا کے نتیجہ میں جب سے انسان اپنے حیوانی دور سے نکل کر انسانی دور میں داخل ہوا ہے اس کی قوت استدلال بتدریج بالغ نظری کے مقام پر جا پہنچی ہے۔بعد ازاں ایک طرف تو بنی نوع انسان کے علم وصداقت کے اجتماعی تجربہ میں وسعت پیدا ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی کاوشوں اور عقلی نتائج کے معیار میں بھی بہتری پیدا ہوتی چلی گئی۔جس طرح جسمانی ورزش عضلات کو طاقت بخشتی ہے اسی طرح دماغی ورزش کے نتیجہ میں ذہنی، فکری اور یادداشت کی صلاحیتیں بھی نشو و نما پاتی ہیں۔غالباً اس مشق ہی کا نتیجہ ہے کہ ارتقائی عمل کے دوران جانوروں کے دماغ کی جسامت بڑھتی چلی گئی۔ہماری ذہنی استعدادوں کی نشوونما کا یہ احساس جہاں ایک لحاظ سے خوش آئند ہے وہاں ایک لحاظ سے پریشان کن بھی ہے۔کیونکہ اس طرح تو انسان کی عہد بعہد ترقی کے دوران اس کی ذہنی اور فکری کاوشیں اور ان سے اخذ کردہ نتائج ہی مشکوک ہو کر رہ جاتے ہیں۔کیا یہ قرین قیاس نہیں کہ انسانی دماغ نے ارتقا کی جو مختلف منازل طے کی ہیں ان کے دوران ایک ہی قسم کے حقائق سے مختلف نتائج اخذ کئے ہوں؟ اگر معروضی حقائق مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے مختلف دکھائی دیں اور اگر غیر متعصب ذہن بھی مختلف ادوار میں ان سے مختلف نتائج اخذ کرے تو کیا ایسے نتائج کو مسلّمہ حقائق قرار دینا درست ہو گا ؟ لہذا محض منطق کے عمل استخراج اور استدلال سے حاصل کردہ علم کو مطلق سچائی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔اب ہم ان مسائل پر گفتگو کریں گے جن کا تعلق ان ذرائع سے ہے جو علم کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور اس طریق کار سے متعلق ہیں جس سے کسی بھی علم کی صداقت کو پرکھا جا سکے۔اگر لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے تمام ممکنہ زاویہ ہائے نگاہ کو ایک متحرک پلیٹ فارم پر رکھ دیا جائے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی بھی علم کو پورے یقین کے ساتھ حتمی قرار دے سکیں۔البتہ ایک زاویہ نگاہ ایسا