الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 314

308 زندگی کے آغاز سے متعلق مختلف نظريات باریک ذرات برف کی حفاظتی تہوں میں موجود تھے، جیسا کہ شہاب ثاقب کی دم میں پائے جاتے ہیں، عین ممکن ہے کہ یہ ذرات شبنم کی طرح آہستگی سے سطح زمین پر اتر آئے ہوں۔یہاں ملر کے عہد ساز تجربہ کا ذکر کرنا ضروری ہے جس نے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا لیکن جلد ہی اس کی خامیاں نظر آنے لگیں اور بعض سائنسدان ٹھنڈے دل کے ساتھ اس پر غور کرنے لگے۔ایک ممتاز سکالر آر۔ای۔ڈکرسن (R۔E۔Dickerson) نے اس سلسلہ میں اپنے ایک مضمون Chemical Evolution and the Origin of Life) کیمیاوی ارتقا اور آغاز حیات ) میں نہایت جامع اور غیر جانبدارانہ انداز میں ملر کے تجربہ سے اخذ کردہ نتائج کو تنقیدی نظر سے دیکھا ہے۔ڈکر سن کے اس مضمون سے ایک بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ملر کے تجربہ سے متعلق تمام اعداد و شمار پہلے منظر عام پر نہیں آئے تھے۔چنانچہ ڈ کرسن کہتا ہے: اگر چہ مر کی تجربہ گاہ میں بہت سے اہم امینوایسڈ مصنوعی طور پر پیدا ہوئے تھے جو جاندار اجسام کی لحمیات میں موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے سالے بھی پیدا ہوئے جو 666 جاندار اجسام میں نہیں پائے جاتے۔6 جب دوسرے سائنس دانوں نے ملر کے ابتدائی تجربہ کو دہرایا تو یہ بات سامنے آئی کہ ان تجربات کے دوران تین Isomeric ( ہم ترکیب) امینوایسڈ پیدا ہوئے جن میں سے صرف Valine (غذائی جزو ہی موجودہ لحمیات میں پائی جاتی ہے۔بجلی کی رو کے زیر اثر کئے گئے ان تجربات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امینوایسڈز کے سات Isomers ( ہم ترکیبی مادے) میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے عالمگیر حیاتیاتی نظام میں پائی جانے والی لحمیات کا جز و قرار دیا جاسکے۔ڈ کرسن مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ان میں amino acids کے سیٹ کا انتخاب ہی کیونکر ہوا۔کیا یہ ممکن ہے کہ بعض اور امینوایسڈ بھی آزمائے گئے ہوں جو مقابلۂ کمزور ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر نیست و نابود ہو 66 گئے ہوں۔6 ملمر کے تجربہ سے حاصل شدہ سادہ amino acids سے نہایت پیچیدہ اور مربوط لحمیات کا