الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 246
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 241 ہے کہ آج سے ایک ہزار سال بعد کے انسان کا علم موجودہ علم سے اربوں گنا زیادہ ہو۔اس کے باوجود وہ علم خدا کے لا محدود علم کی نسبت بے حقیقت ہی ہو گا۔جوں جوں دریافت کے اس سفر کی رفتار بڑھتی ہے یہ احساس بھی بڑھتا چلا جاتا ہے کہ ہمارے حواس خمسہ کی پہنچ تو انتہائی محدود ہے۔حیات اور صوت وصدا کی ایک وسیع کائنات ہمارے محسوسات کی پہنچ سے باہر ہے۔اگر اسے محسوس کرنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکتا تو ہم بہت سے نئے رنگ دیکھتے اور نئی آوازیں سننے کے قابل ہو سکتے۔اسی طرح جو رنگ اور روپ ہمیں دکھائی دیتے ہیں وہی رنگ بعض دوسرے جانوروں کو مختلف دکھائی دیتے ہیں۔مادی دنیا کے مناظر ، رنگوں کا احساس، خوشبو، بد بو اور ذائقہ یہ سب مختلف جانوروں کو مختلف طور پر محسوس ہوتے ہیں۔گویا ہر محسوس حقیقت ایک نسبتی حقیقت بن جاتی ہے۔لیکن اس تنوع کے باوجود حیوانات کی وسیع دنیا کی کار کردگی میں کوئی فرق نہیں آتا۔اس کے برعکس احساسات میں تنوع سے زندگی ارتقا پذیر رہتی ہے۔مثلاً گدھ یا اگدھ یا شہد کی مکھی یا Squid مچھلی کی بصارت ان سب کی مخصوص ضروریات کے عین مطابق ہے۔انسان کے مقابلہ میں Squid مچھلی یا کیڑے مکوڑے اپنے ماحول کی اشیاء کو مختلف شکلوں میں ہی دیکھتے ہیں کیونکہ ان کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ یہ اشیاء ان کو اپنی اصل حالت سے بڑی یا چھوٹی دکھائی دیں۔لہذا ہر جانور کی بصری صلاحیت مختلف ہے۔لیکن انسانی آنکھ کی محدود صلاحیتیں اب محدود نہیں رہیں بلکہ جدید الیکٹرانک آلات کی مدد سے انسان کی دیکھنے کی صلاحیت انتہائی حیرت انگیز حد تک ترقی کر چکی ہے۔جب گیلیلیو (1600ء) نے اپنی ابتدائی دور بین سے کائنات کا مشاہدہ کیا تو وہ اپنی ایجاد پر بہت خوش ہوا اور بڑے فخر سے یہ اعلان کیا کہ اس نے انسان کے مشاہدہ کی طاقت کو سو گنا بڑھا دیا ہے۔اسے کیا معلوم تھا کہ مستقبل قریب میں انسان کو اس کے مقابلہ میں کروڑوں گنا وسیع کائنات کا مشاہدہ کرنا تھا۔وہ اپنی دریافتوں اور ایجادات کو صرف ماضی کے حوالہ سے دیکھ رہا تھا۔بیشک انسان کا اپنی کامیابیوں پر فخر کتنا عارضی ہوتا ہے؟! اس بات کا ثبوت گیلیلیو کی زندگی کے آخری ایام سے ملتا ہے جب وہ بینائی کی نعمت سے محروم ہو چکا تھا۔وہ اپنے غم و اندوہ کا اظہار ایک عزیز دوست کے نام خط میں یوں کرتا ہے کہ