الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 245

240 ايمان بالغيب اس کے بر عکس مسلسل تحقیق کو فروغ دیتی ہے اور انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ جو کچھ بھی اسے معلوم ہے وہ دراصل غیر معلوم کا نہایت ہی قلیل حصہ ہے۔اور چونکہ اسرار فطرت کا سمندر ہے کنار ہے لہذا تلاش علم کا سفر بھی مسلسل جاری رہنا چاہیئے۔معقول فیصلہ کرنے کیلئے انسانی عقل کو دو ہی قسم کے ذرائع یا وسائل میسر ہیں۔اوّل subjective یعنی موضوعی یا ذہنی تصورات، دوم objective یعنی معروضی حقائق۔لہذا اگر فیصلہ کرنے والے کی دیانت شک و شبہ سے بالا بھی ہو تب بھی بعض دیگر عوامل کی موجودگی میں جو اس کے اختیار میں نہیں اس سے غلط فیصلے بھی صادر ہو سکتے ہیں۔غلط معلومات، غلط نہی ، دھوکہ دہی یا اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے نہ ہونے کی وجہ سے انسان کے فیصلوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔علاوہ ازیں عام طور پر پائے جانے والے نقطہ نظر میں اختلاف کے باعث بھی مشاہدات مختلف ہو سکتے ہیں۔ان تمام اندیشوں کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر زمانہ میں عقل نے انسان کی رہنمائی ہمیشہ تاریکی کے ادوار سے نسبتا روشنی کے ادوار کی طرف ہی کی ہے۔جا کیا قرآن کریم کے اس دعوئی کو یقینی طور پر سچا ثابت کیا جا سکتا ہے کہ خدا جس پر چاہے غیب کے بعض پہلو ظاہر فرما دے؟ کیا ایک منکر کو یہ یقین دلایا جا سکتا ہے کہ ایمان بالغیب محض ایک فریب اور خوش فہمی نہیں بلکہ اس کی بنیاد ایک حقیقت پر قائم ہے اور اسے معقولی طور پر ثابت کیا اسکتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب مسلّمہ حقائق اور سائنسی شواہد کے ذریعہ پیش کرنا ضروری ہوں گے۔دراصل اس کتاب کے لکھنے کی اصل غرض بھی یہی ہے۔چنانچہ آئندہ ابواب میں قاری کو بکثرت اس بات کے ثبوت ملیں گے کہ الہام الہی واقعہ انتقال علم کا ایک قابل اعتماد ذریعہ ہے۔سورۃ الحجر کی آیت 22 کے مضمون کے مطابق انسانی علم کا افق مسلسل وسعت پذیر ہے اور اس علم میں ہر لحہ اضافہ ہورہا ہے۔نتیجہ علم کی ایک نہ بجھنے والی پیاس بھڑک اٹھتی ہے۔اس میں بیک وقت امید اور افتخار کا ایک پیغام بھی ہے اور کم مائیگی اور بجز کا درس بھی۔کم مائیگی ان معنوں میں کہ انسان کا یہ احساس مسلسل بڑھتا چلا جاتا ہے کہ اس کا علم اس کی لاعلمی کی نسبت کس قدر قلیل ہے۔جیسے ایک لا محدود افق پر ایک نقطہ بلکہ اس سے بھی کم ممکن ہے کہ ہمارا آج کا علم ایک ہزار سال قبل کے مقابلہ میں کروڑوں گنا زیادہ ہو۔اسی طرح یہ بھی ممکن