الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxvii
الهام ، عقل ، علم اور سچائی xxvii ابتدائی اور قدیم ترین آنکھ میں بھی بے حد جدید نظام کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، یہ نظر یہ غلط ثابت کر دیا ہے۔گہرے سمندروں کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ آنکھ کے جو قدیم ترین نمونے آبی حیات میں ملتے ہیں وہ نظام بصارت کے ایسے مکمل شاہکار ہیں کہ انہوں نے جدید ترین بصری آلات بنانے والوں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔یہاں کسی قسم کی تفصیلی بحث اٹھانے کی ضرورت نہیں تاہم قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم مائیکل ایف۔لینڈ (Michael F۔Land) کے مقالہ Animal Eyes with Mirror Optics a" ، کا ذکر کریں گے جو سائینٹفک امریکن (Scientific Americar) میں اس کتاب کی اشاعت سے تقریباً 20 سال قبل شائع ہوا تھا۔ہم قارئین کی توجہ خاص طور پر اس مقالہ کے صفحہ 93 کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس میں جائیگٹو سپرس(Gigantocypris) کی آنکھ کا بیان ہے۔اس کی دو منفرد آنکھیں تخلیق کا ایک معجزہ ہیں۔عام گول آنکھوں کی بجائے جنہیں فوکس کرنے کے لئے عدسہ کی ضرورت ہوتی ہے ان میں انعکاسی شیشے (Reflectors) رکھے گئے ہیں جو ان کی ضرورت کے عین مطابق ہیں اور بجائے خود تخلیق کا ایک اعجاز ہیں۔تاریک سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں میں رہنے والے اس جانور کے لئے اسی قسم کی آنکھیں مطلوب تھیں۔اس کو گھپ اندھیرے میں انتہائی مدہم روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ایسا ہونا ہر گز ممکن نہیں جب تک پہلے کسی ایسے ماہر صناع کا وجود تسلیم نہ کیا جائے جو نہ صرف اس ابتدائی لیکن انتہائی لطیف بصری آلے کی مکمل سمجھ بوجھ رکھتا ہو بلکہ اس کی تخلیق کے اصولوں کا بھی اچھی طرح علم رکھتا ہو۔اس مقالہ میں انتہائی قدیم زمانہ میں پائی جانے والی آنکھوں کی ایسی کئی مثالیں دی گئی ہیں جن کی تخلیق حیران کن حد تک با مقصد تھی۔ایسی ہر مثال پروفیسر ڈاکٹر اور ان کے عظیم استاد چارلس ڈارون کے رفتہ رفتہ جمع ہو جانے والے اتفاقی عوامل" کے نظریہ کے پر خچے اڑا دیتا ہے۔ان سب مثالوں کا تو ہم نے اپنی اس کتاب میں ذکر نہیں کیا کیونکہ اس میں پہلے ہی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔لیکن ڈارون کی اس قیاسی دلیل کو جو اس نے آنکھ کی تشکیل کے متعلق اپنے رفتہ رفتہ جمع ہو جانے والے اتفاقی عوامل“ کے نظریہ کے حق میں دی ہے، یہ حوالہ مکمل طور پر رد کر دیتا ہے۔اس مضمون کا مطالعہ ایک انتہائی متشکلک ماہر حیاتیات کو بھی یہ