الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxvi of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page xxvi

xxvi پیش لفظ کھلم کھلا اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ انتخاب طبعی کا نظریہ کسی بھی طرح آنکھ کے پیچیدہ نظام کی کوئی تشریح نہیں کرتا۔ڈارون کا یہ اعتراف اس کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔میں کھل کر اعتراف کرتا ہوں کہ یہ تصور کہ آنکھ فاصلہ اور روشنی کی کمی بیشی کے مطابق خود بخو و فوکس کر کے اور کردی اور لونیاتی نقائص کی از خود اصلاح کی صلاحیتوں کے ساتھ محض انتخاب طبعی کے اصول کے زیر اثر معرض وجود میں آگئی، میرے نزدیک ایک انتہائی احمقانہ تصور ہوگا۔اس اعتراف کے بعد ڈارون اپنے " bit by bit theory" یعنی رفتہ رفتہ جمع ہو جانے والے اتفاقی عوامل کے نظریہ کا سہارا لے کر پسپائی کا راستہ تراش لیتا ہے۔بالفاظ دیگر یہ وہ نظریہ ہے جو انتخاب طبعی کے خالق ہونے کے حق میں پروفیسر ڈاکنز کے دلائل کی بنیاد ہے۔حالانکہ ڈارون کا اسی قبیل کا اپنا نظریہ ایسی ہی قیاس آرائیوں پر مشتمل تھا جو پہلے ہی کلیہ غلط ثابت ہو چکی ہیں۔اور اگر کچھ باقی ہے تو اس سے قطعی طور پر برعکس نتیجہ نکلتا ہے۔پوری دیانتداری کے ساتھ کئے گئے اس مذکورہ بالا اعتراف کے بعد اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ڈارون مزید کہتا ہے: تاہم عقل یہ کہتی ہے کہ ایک مکمل آنکھ سے لے کر ایک نامکمل اور سادہ آنکھ تک کے بے شمار تخلیقی مراحل سے متعلق اگر یہ ثابت کیا جا سکے کہ ہر مرحلہ ایک ذی حیات کے لئے کوئی افادیت رکھتا تھا، نیز یہ بھی کہ آنکھ میں بہت باریک تبدیلیاں آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی رہی ہیں اور پھر یہ بھی کہ یہ تبدیلیاں وراثتا منتقل بھی ہوئی ہیں جیسا کہ امر واقعہ ہے۔مزید برآں اگر یہ ثابت کیا بھی جاسکے کہ زندگی کے بدلتے ہوئے حالات میں آنکھ میں ہونے والی ہر تبدیلی اور ہر ترمیم ایک جاندار کے لئے ہمیشہ مفید ثابت ہوئی ہے پھر بھی اس امر کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ آنکھ اپنے مکمل اور پیچیدہ نظام کے ساتھ انتخاب طبعی کے اصول کے تحت تشکیل پاسکتی ہے اس کا تصور بھی بعید از قیاس ہوگا۔166 پس رفتہ رفتہ جمع ہو جانے والے اتفاقی عوامل کا مبالغہ آمیز نظریہ، اور وہ بھی خصوصاً آنکھ کے حوالہ سے، سب سے پہلے خود ڈارون نے پیش کیا تھا۔لیکن جدیدترین تحقیقات نے جن کی روسے