الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 222
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ان کی رسیاں اور ان کی سونٹیاں دوڑ رہی ہیں تو موسیٰ نے اپنے جی میں خوف محسوس کیا۔ہم 217 نے کہا مت ڈر۔یقینا تو ہی غالب آنے والا ہے۔قرآن کریم کے اس بیان کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی جادو گروں کی نفسیاتی قوتوں سے متاثر ہو گئے تھے۔اس سے ثابت ہوا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ محض اپنی ذہنی قوت کے بل بوتے پر ساحروں کا سحر نہ توڑ سکتے تھے۔نفسیاتی اعتبار سے بھی ذہن پر غالب آنے والے ہپناٹزم کے حملہ کو توڑ دینا ناممکن ہے۔گویا ساحروں کے حملہ کا توڑ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بالا رادہ نہیں کیا۔اس تناظر میں یہ واقعہ ایک معجزہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ورنہ مضبوط ترین قوت ارادی کا مالک بھی ساحروں کی ان کوششوں سے شکست کھا سکتا تھا۔ساحروں سے بڑھ کر کس کو علم تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق میں تائید الہی کام کر رہی ہے کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دیگر حاضرین کی طرح اپنے سحر سے متاثر ہوتا دیکھ چکے تھے۔یہ ممکن نہیں تھا کہ دیگر تماشائیوں کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا متاثر ذہن ان کی سحر انگیزی سے خود بخود چھٹکارا پا لیتا۔ضمنا یہ آیت نام نہاد جادوگری کی حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتی ہے کہ ساحروں نے رسیوں اور سونٹیوں کو سچ سچ سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ اپنی نفسیاتی قوت سے ایک فریب کی صورت پیدا کر دی تھی۔الہام بھی دراصل انسان کی نفسیاتی کیفیت کا ایک عمل ہے۔فرق یہ ہے کہ یہ عمل صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے اپنے حکم اور ارادہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔چنانچہ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یقیناً پیغام وصول کرنے کے لئے انسانی ذہن کو ایک جدید ترین اور پیچیدہ مواصلاتی نظام ودیعت کر رکھا ہے۔اس لئے وحی والہام کا یہ نظام انوکھا اور غیر فطری نہیں ہے۔ہر انسانی ذہن کو دیگر انسانوں سے رابطہ کے لئے حواس خمسہ سے بالا صلاحیتیں بھی بخشی گئی ہیں۔یہاں قاری کو آگاہ کرنا ضروری ہے کہ ہمارے زیر بحث یہ شاندار نظام بڑی عمدگی ، خوبی اور ذمہ داری کے ساتھ ہر شخص کے صداقت کے معیار کی نسبت سے کام کرتا ہے۔کسی جھوٹے کے دماغ میں غیر حقیقی اور بے بنیاد خیالات شتر بے مہار کی طرح گزرتے رہتے ہیں اور اس کی نفسانی خواہشات اس کے لئے جھوٹے خواب تراشتی رہتی ہیں۔لیکن غالب امکان ہے کہ ایک کھرا،