الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 187

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 183 انسان کا جرم کی طرف رجحان اور ارتکاب جرم کی خواہش اس کے بیچ نکلنے کی امید اور امکان سے وابستہ ہے۔چونکہ ایسی قانون سازی جرائم کی تاریک و تار پرورش گاہوں کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس لئے وہ معاشرتی برائیوں کے خاتمہ میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔بہت سی برائیوں کا ارتکاب نظروں سے اوجھل رہ کر گرفت سے بچ نکلنے کی مزعومہ اس کے پس پردہ کیا جاتا ہے۔بایں ہمہ سراغ رسانی کے جدید ترین ذرائع بھی مجرم کو اس کے ان عزائم سے باز نہیں رکھ سکتے جو اس نے اپنے دل کے نہاں خانوں میں پوری سوچ بچار اور منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کئے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر پختہ ایمان اور احتساب کا خوف ہی دراصل جرائم کی روک تھام کر سکتا ہے۔انہی مقاصد کے تحت مذہب نے اخلاقی ضابطہ حیات پیش کیا۔فی الحقیقت یہ اخلاقی ضابطہ حیات ہی خود مذہب کی بقا کیلئے از بس ضروری ہے۔اخلاقی قدروں کے پامال ہونے کے نتیجہ میں سب سے پہلے مذہب کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔بد دیانتی اور بد عملی انسان کے بنائے ہوئے قانون اور آئین کے بلند و بالا ایوانوں کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔اسی طرح مذہب کے عظیم روحانی درودیوار بھی فسق و فجور کے نتیجہ میں شکست وریخت کی نذر ہو جاتے ہیں اور دیمک کی طرح عظیم مذاہب کی فلک بوس اخلاقی عمارات کو پیوند خاک کر دیتے ہیں۔ر ہر سطح پر مذہبی عقائد اور اعمال کے انحطاط کو سمجھنے کی یہی کلید ہے۔اخلاقیات کا معیار پست ہونے کی بنا پر توحید کا عقیدہ ہی پارہ پارہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔بت پرستی توحید کی جگہ لینے لگتی ہے اور بت خدا کے گھر پر قابض ہو جاتے ہیں جنہیں مندروں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔انحطاط کے اس پس منظر میں غور سے دیکھنے والے کو ہمیشہ بد دیانتی کے جراثیم نظر آئیں گے۔قیادت کی کسی بھی سطح پر ہونے والی بددیانتی ایک مہلک زہر ہے۔لیکن اگر یہ مذہبی قیادت پر قبضہ جمالے تو اس سے بڑھ کر مہلک زہر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ایسے مذہبی رہنما خدا کے نام پر اس کی مخلوق کے امن کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔تب انسانی معاملات سے خدا تعالیٰ کا کردار ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور اس کے خالی تخت پر مذہبی اکابرین کے جعلی خدا قبضہ جمالیتے ہیں۔زیاده دانشمندانہ طریق یہ ہے کہ مذاہب کی سچائی کا محاکمہ ان کے دور اول کو سامنے رکھ کر کیا جائے نہ کہ اس وقت جب وہ انسانی دست برد کا شکار ہو چکے ہوں۔مذاہب کا آغاز جتنا