الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 170

166 دکھ اور الم کا مسئلہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اذیت ارتقا کی قوت متحرکہ کا نہایت اہم جزو ہے۔تا ہم اس امر کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ہستی کے شعور سے حاصل ہونے والی لذت اور اذیت کا توازن کیسے برقرار رکھا جائے ؟ لذت اور اذیت کی اس سادہ مساوات میں اگر رنج و الم کا پلہ بھاری رہے تو اکثریت ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دے گی۔اگر رنج والم میں مبتلا لوگوں کی اکثریت دکھ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے شعوری سطح پر اپنی شناخت کو ضائع کرنا ہی پسند کرے گی تو اس صورت میں کائنات کے اس منصوبہ کی حکمت ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔حالانکہ حقیقی زندگی میں ہمارا مشاہدہ مندرجہ بالا مفروضہ کے بالکل برعکس ہے۔زندگی بسا اوقات اپنے وجود کے شعور کے ساتھ ہر قیمت پر چھٹی رہتی ہے خواہ کتنی ہی تکلیف اور دکھ کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔غالب اصول تو یہی ہے تا ہم بعض استثنائی صورتیں ہیں جو شاذ کالمعدوم کا حکم رکھتی ہیں۔یا درکھنا چاہئے کہ رنج والم کا تناظر بدلتا رہتا ہے۔یہ ایک مسلسل عمل ہے جو زاویہ ہائے نگاہ کے بدلنے سے بدل جاتا ہے۔صحت مند لوگ کسی معذور بچے کی حالت کو انتہائی تکلیف دہ خیال کرتے ہیں لیکن وہ جو اس بچے سے بھی زیادہ تکلیف دہ حالت میں ہیں ان کے لئے اس کی یہ حالت قابل رشک ہوتی ہے۔وسیع تر تناظر میں زندگی کی ہر صورت اپنے سے نیچے یا اوپر کی حالتوں سے بالترتیب بہتر یا کمتر نظر آتی ہے۔ارتقا کے سفر میں ہمارا اقدار کا شعور بھی ادنیٰ سے اعلیٰ حالتوں کی طرف تبدیل ہوتا چلا گیا ہے۔اگر ارتقا کے اس ہمہ وقت ترقی پذیر رستے میں بلندی پر واقع مراحل کو کسی بلند تر مقام سے دیکھا جائے تو وہ بھی نسبتاً پست دکھائی دیتے ہیں۔حیات کی اعلیٰ حالتوں کا ان قدروں سے چولی دامن کا ساتھ ہے جن کا شعور ارتقا کے طویل عمل کے دوران حاصل ہوا۔اقدار کی اس آگہی اور استعدادوں میں کسی قسم کی کمی یقینا ایسی اذیت پر منتج ہو گی جو بذات خود ان کی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔اگر کیڑے کی زندگی کا حیات کی بعض اعلیٰ حالتوں سے موازنہ کریں اور پھر ان کا موازنہ جانوروں کی بعض مزید ترقی یافتہ انواع سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سب کی استعدادیں یکساں نہیں ہیں۔مثال کے طور پر گلے سڑے نامیاتی مادہ اور گندگی پر پلنے والے کیڑے کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو گھاس کے وسیع میدانوں میں آزادی سے گھومتے پھرتے اور نرم گھاس چرتے