الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 167

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 163 تکلیف اپنے فعال کردار کی وجہ سے ایسے مفید اثرات پیدا کرتی ہے جو اس کی موجودگی کی یاد دلاتے ہیں۔ہمارے کردار کو سنوارنے کیلئے تکلیف ایک بہترین استاد کا درجہ رکھتی ہے۔یہ قوت ادراک کو ترقی دے کر اسے جلا بخشتی ، فروتنی سکھاتی اور کئی طریق سے انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہے۔یہ تحقیق اور جستجو کو بیدار کر کے اس خواہش کو جنم دیتی ہے جو تمام ایجادات کی ماں ہے۔اگر تکلیف کو جو انسان کی پوشیدہ قوت کا باعث ہے، دور کر دیا جائے تو ارتقا کا پہیہ لاکھوں گنا پیچھے چلا جائے گا۔انسان اس قدرتی منصوبہ کو تبدیل کرنے کی کوشش تو کر سکتا ہے مگر سوائے مایوسی کے اسے کچھ حاصل نہ ہو گا۔چنانچہ تکلیف اور دکھ کی موجودگی کی وجہ سے خالق کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔بلکہ ان حالات میں دکھ اور تکلیف کا تو ایک تخلیقی کردار ہے اور یہ زحمت تو دراصل ہمارے لئے رحمت کا باعث ہے۔ان تمام سائنسی تحقیقات اور دریافتوں کے پس منظر میں تکلیف اور بے آرامی سے چھٹکارا پانے کی ایک مستقل جدو جہد ہے جو کار فرما ہے۔سائنسی تحقیق اور دریافتوں کے محرکات آرام کے حصول کی خواہش پر اس قدر مبنی نہیں جس قدر تکلیف سے نجات حاصل کرنے پر تعیش دراصل ہے کیا ؟ یہ بے آرامی کی حالت سے نسبتا آرام کی حالت کی طرف جانے کے رجحان میں وسعت کا نام ہے۔آئے ایک بار پھر ان معصوم اور دکھی لوگوں کے معاملہ پر مزید غور کریں۔مثلاً پیدائشی نقائص کے حامل نومولود بچے یا وہ بچے جو بعد میں ٹائیفائیڈ یا کسی اور معذور کر دینے والی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اندھے، بہرے یا گونگے ہو جاتے ہیں اور جزوی یا مکمل طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔جن بچوں کے مرکزی اعصابی نظام کو دوران پیدائش نقصان پہنچ جاتا ہے ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے اور اس کا نتیجہ دماغی امراض کی صورت میں نکلا کرتا ہے۔اب کیا یہ سوال درست ہو گا کہ کیوں ایک بچہ مثلاً زید یا بکر تو اس تکلیف میں مبتلا ہے اور عمر یا خالد نہیں؟ علیٰ ہذا القیاس ”الف“ یا ”ب“ کیوں بیمار ہے اور ج“ اور ” کیوں نہیں؟ اسی طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جائے گا۔درست سوال صرف یہ ہو سکتا ہے کہ آخر کوئی بھی بچہ اس طرح کیوں بیمار ہوتا ہے؟ اس صورت میں خالق کے پاس ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے کہ یا تو تمام بچوں کو یکساں صحت مند پیدا کرے یا کا