الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 150
148 تاؤ ازم تاؤ اتنا عظیم ہے کہ وہ مشرق میں بھی ہے اور مغرب میں بھی۔جملہ مخلوقات اس کی محتاج ہیں۔وہ ان کی فلاح و بہبود کو کمال تک پہنچاتا ہے اور جملہ مخلوقات کا پالنے والا ہے مگر وہ خود غنی ہے۔تمام مخلوقات اپنی ضروریات کے لئے اس سے رجوع کرتی ہیں جبکہ وہ خود ان سے بے نیاز ہے۔اس طرح اسے عظیم ترین کہا جا سکتا ہے۔وہ اپنی عظمت کا مدعی نہیں۔بایں وجوہ وہ یقینا عظیم ہے۔1<< پھر ایک اور جگہ یوں بیان ہوا ہے: ”سب کی توجہ کا مرکز مگر غیر مرئی جس کا وجود گویا بے رنگ ہے۔خاموش وجود جسے سننے کے بہت خواہش مند ہوں اور ایسا منفی جس کے بہت متلاشی ہوں۔کسی کے لئے ان تینوں صفات کے منبع کا ادراک ممکن نہیں گو وہ ایک ہی وجود میں پائی جاتی ہوں۔بظاہر وہ روشن نہیں مگر اس کے نیچے کوئی اندھیرا بھی نہیں۔اس کی لا محدودیت کے باعث اس کا احاطہ ممکن نہیں۔اس کا وجود کسی شکل و صورت کا محتاج نہیں۔وہ ہمارے ادراک سے بالا ہے۔وہ ازلی ابدی ہے۔پس بہتر یہی ہے کہ ماضی کی روشنی میں اپنا حال سنوارو 2 29 اسی طرح ایک اور جگہ تاؤ کے بارہ میں یوں بیان کیا گیا ہے: وہ ایک غیر منقسم وجود ہے جس کی گنہ معلوم نہیں کی جاسکتی۔وہ تمام مخلوقات کا خالق اور زمین اور آسمان کی تخلیق سے بھی پہلے موجود تھا۔وہ واحد لاشریک اور کسی شکل اور آواز کی احتیاج سے مستغنی ہے۔اس کا وجود کسی سہارے کا محتاج نہیں۔وہ غیر متبدل ہے۔وہ مسلسل مصروف عمل ہے مگر تھکتا نہیں۔اسے خالق کا ئنات کہا جا سکتا ہے۔3 قرآن کریم کی مختلف آیات میں مذکور صفات الہیہ کی تصویر مجموعی طور پر تاؤ کے مندرجہ بالا تصور کے مطابق ہے۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ نے خدا کے بارہ میں قرآنی تصور کو خلاصہ یوں بیان فرمایا ہے: وہ قریب ہے باوجود دور ہونے کے۔اور دور ہے باوجود نزدیک ہونے کے وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔اور وہ عرش پر ہے مگر نہیں کہہ