الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 149
تا وازم عظیم درویش نبی خوشی Fu Hsi) کے مذہبی اور روحانی تجربات ہی تمام چینی مذاہب کا سرچشمہ ہیں۔بعد میں آنے والے بڑے بڑے بزرگوں اور مفکروں نے خوشی کی ان تحریرات کا گہرا مطالعہ کیا اور چینی قوم کے سامنے نئے فلسفوں، علوم، مذہبی افکار اور اخلاقی تعلیمات کو پیش کیا۔ان رہنماؤں میں بالخصوص کنگ وان King Wan)، ان کے بیٹے Cheu Kung اور Lao-tzu کو چینی قوم ہر دور میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتی چلی آئی ہے۔Lao tu (600 ق۔م ) جو کنفیوشس کے ہمعصر تھے، کے پیش کردہ طرز زندگی کو تاؤ ازم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔تاوازم کے مطابق ابدی صداقت تاؤ نامی ایک ایسے وجود میں موجود ہے جو غیر مادی، مقدس اور روحانی صفات سے متصف ہے۔تاؤ کو ابدی اور دائمی نیکیوں کا پیکر کہنا زیادہ موزوں ہو گا۔بعینہ یہی صفات اسلام اور دوسرے الہامی مذاہب میں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔تاؤ ازم انسان کو اس ابدی صداقت کی کامل اطاعت اور اس کا نمونہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے۔تا ؤ در اصل ایک نمونہ ہے اور تا وازم اس تک رسائی کا ذریعہ ہے۔خدا تعالیٰ اور انسان کے تعلق کو قرآن کریم میں بھی اسی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْنَةٌ وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ (البقرة 139:2) ترجمہ۔اللہ کا رنگ پکڑو۔اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔اسلام میں خدا تعالیٰ اپنی صفات کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اور مسلمانوں کیلئے ان صفات سے متصف زندگی کو ہی مقصد قرار دیا گیا ہے۔Lao-tz1 کا پیش کردہ تاؤ کا تصور قرآن کریم میں 121-L20 مذکور صفات الہیہ سے کافی مشابہ ہے۔وہ لکھتے ہیں: 147